چین نے تبت کے روحانی پیشوا دلائی لاما کے گریمی ایوارڈ جیتنے پر شدید تنقید کرتے ہوئے موسیقی کی اس عالمی تقریب کو ’چین مخالف سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والا آلہ‘ قرار دیا ہے۔

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لان جیان نے پیر کے روز بیجنگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بات سب پر عیاں ہے کہ 14ویں دلائی لاما محض ایک مذہبی شخصیت نہیں بلکہ ایک سیاسی جلاوطن ہیں، جو مذہب کی آڑ میں چین مخالف علیحدگی پسند سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔‘

انہوں نے کہا، ’ہم اس کی سخت مخالفت کرتے ہیں کہ کوئی بھی فریق اس ایوارڈ کو چین مخالف سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرے۔ اس حوالے سے ہمارا مؤقف مستقل اور بالکل واضح ہے۔‘

90 سالہ دلائی لاما، جن کا اصل نام تنزین گیاتسو ہے، کو اتوار کے روز ’آڈیو بک، نیریشن اور اسٹوری ٹیلنگ‘ کے زمرے میں اپنی آڈیو کتاب ‘میڈیٹیشن’ پر گریمی ایوارڈ کا فاتح قرار دیا گیا۔

دلائی لاما نے اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ وہ اس اعزاز کو ’ہماری مشترکہ عالمی ذمہ داری کے اعتراف‘ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’میں اس اعزاز کو شکرگزاری اور عاجزی کے ساتھ قبول کرتا ہوں۔‘

دلائی لاما 1959 سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں، جب چینی فوج نے تبت کے دارالحکومت لہاسا میں بغاوت کو کچل دیا تھا۔ اس کے بعد وہ بھارت کے شمالی شہر دھرم شالہ منتقل ہو گئے، جہاں انہوں نے تبتی پارلیمنٹ اور جلاوطنی حکومت قائم کی۔

چین اس جلاوطن انتظامیہ کو تسلیم نہیں کرتا اور اس کا مؤقف ہے کہ تبت 13ویں صدی سے چین کا حصہ رہا ہے۔ چین نے 1951 میں تبت پر کنٹرول کو ’پرامن آزادی‘ قرار دیا تھا، تاہم بیجنگ پر تبتی زبان، ثقافت اور شناخت کو مٹانے کے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

دوسری جانب دلائی لاما کا کہنا ہے کہ جب چینی پیپلز لبریشن آرمی تبت میں داخل ہوئی، اس وقت تبت ایک آزاد ریاست تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: دلائی لاما چین مخالف

پڑھیں:

جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات

بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔

بی جے پی حکومت پر سنگین الزامات

منگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔

میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائی

سابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔

امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواست

ممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘  نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔

ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مجھے سب کچھ معلوم ہے

اپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔

نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔

مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان