Jasarat News:
2026-07-24@03:09:49 GMT

ایپل فولڈ ایبل فلپ فون کی تیاری کا امکان زیر غور

اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایپل کے نئے فولڈ ایبل آئی فون کے حوالے سے دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران متعدد افواہیں اور رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ کمپنی جلد ہی اپنا پہلا فولڈ ایبل آئی فون صارفین کے لیے پیش کر سکتی ہے، جو رواں سال ستمبر میں متعارف کرانے کے امکانات کے ساتھ زیر غور ہے۔

تاہم تازہ رپورٹس میں انکشاف ہوا ہے کہ ایپل نہ صرف بک اسٹائل فولڈ ایبل آئی فون پر کام کر رہا ہے بلکہ کمپنی فلپ اسٹائل فولڈنگ آئی فون کے آپشنز پر بھی تجربات کر رہی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ایپل نے فلپ ماڈل کی تیاری کے ابتدائی پروٹو ٹائپس تیار کر لیے ہیں، مگر یہ واضح نہیں کہ یہ ڈیوائس کب تک مارکیٹ میں دستیاب ہو سکے گی یا یہ منصوبہ حقیقت میں صارفین تک پہنچ پائے گا یا نہیں۔

ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق ایپل کا منصوبہ یہ ہے کہ پہلے بک اسٹائل فولڈ ایبل آئی فون کو لانچ کر کے صارفین کی رائے اور مارکیٹ کے ردعمل کو جانچا جائے، جس کے بعد فلپ اسٹائل ماڈل کے حتمی لانچ کا فیصلہ کیا جائے گا۔ یہ حکمت عملی کمپنی کے گزشتہ تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے مارکیٹ میں محفوظ قدم رکھنے کی کوشش کے مترادف ہے۔

فلپ اسٹائل فولڈ ایبل آئی فون کی افواہیں کافی عرصے سے گردش کر رہی ہیں۔ سابقہ رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ ایپل کے پاس اس ڈیوائس کے کم از کم دو پروٹو ٹائپ ورژنز موجود ہیں۔

ابتدا میں یہ خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ کمپنی بک اسٹائل ماڈل سے پہلے فلپ اسٹائل ڈیوائس پیش کرے گی، لیکن بعد میں یہ منصوبہ مؤخر یا تبدیل کر دیا گیا۔

ایپل کے اس اقدام سے ٹیکنالوجی کی دنیا میں فولڈ ایبل فونز کے حوالے سے تجسس میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، اور صارفین کی دلچسپی اس جانب مرکوز ہو گئی ہے کہ آیا فلپ اسٹائل آئی فون بھی مارکیٹ میں وہی شہرت حاصل کرے گا جو کمپنی کے دیگر ڈیوائسز نے حاصل کی ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فولڈ ایبل ا ئی فون

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ