8فروری کو پہیہ جام ہڑتال ،تحریک انصاف کا اسٹریٹ موومنٹ کو تیز کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
ملک بھر کے عوام ناانصافی کیخلاف رضاکارانہ طور پر دکانیں بند اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے،سندھ اور پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت
بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت،دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں قوم متحد، مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی، سیکیورٹی اور صوبائی صورتحال پر تفصیلی غور کیاگیا،اعلامیہ جاری
پی ٹی آئی نے 8فروری کو پرامن شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کو مؤثر بنانے کے لیے اسٹریٹ موومنٹ کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کرلیا،بلوچستان میں دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں دہشتگردی کے خلاف جدوجہد میں قوم متحد ہے۔ پیرکو پاکستان تحریکِ انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری کیاگیا۔اعلامیہ کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی، سیکیورٹی اور صوبائی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں بلوچستان میں دہشتگردی کے حالیہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور ان حملوں کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس نے شہداء کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جدوجہد میں قوم متحد ہے۔ اجلاس میں بانی چیٔرمین پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس کا مؤقف تھا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق اطلاعات نے پورے ملک کے عوام میں اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ عمران خان کو فوری طور پر ان کے معالج تک مکمل رسائی دی جائے اور ان سے ملاقاتوں کا سلسلہ بلا تاخیر بحال کیا جائے۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ ان کی رہائی فی الفور یقینی بنائی جائے۔ اجلاس میں وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا کی وزیراعظم شہباز شریف سے صوبے کے درپیش مسائل کے حل کے لیے ہونے والی ملاقات کو خوش آئند قرار دیا گیا۔ اجلاس میں وفاق سے مطالبہ کیا گیا کہ خیبرپختونخوا کے بقایا جات، بالخصوص این ایف سی، این ایچ پی اور آئی پی کی مد میں واجب الادا تمام رقوم فوری طور پر ادا کی جائیں تاکہ صوبے کے عوام کے مسائل کا عملی حل ممکن ہو سکے۔ اجلاس نے اس امر پر زور دیا کہ وفاق آئینی ذمہ داریوں کے تحت اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔ اجلاس نے قبائلی اضلاع کی جانب سے ملک کے لیے دی جانے والی بے مثال قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ان قربانیوں کو ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ اجلاس میں شدید موسمی حالات کے دوران وادی تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے متاثرہ خاندانوں کی فوری بحالی اور مکمل ازالے کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس میں خیبر جرگہ کے فیصلوں کی مکمل تائید کی گئی اور قبائلی اضلاع میں پائیدار امن کے قیام اور عوامی مسائل کے مؤثر حل کے لیے تمام متعلقہ اداروں سے فعال کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس میں 8 فروری کو پرامن شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کو مؤثر بنانے کے لیے اسٹریٹ موومنٹ کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس نے واضح کیا کہ 8 فروری کو عوامی مینڈیٹ چرایا گیا اور ملک بھر کے عوام اس ناانصافی کے خلاف پرامن اور رضاکارانہ طور پر اپنی دکانیں بند کریں گے اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔ اجلاس میں سندھ اور پنجاب میں پارٹی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت کی گئی۔ اجلاس کا مؤقف تھا کہ اس قسم کے فسطائی ہتھکنڈے جمہوریت، آئین اور بنیادی انسانی حقوق کی صریح نفی ہیں، جنہیں کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: مطالبہ کیا گیا اجلاس میں کا اظہار اجلاس نے کے عوام کرنے کا اور ان کے لیے
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔