data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: شہرِ قائد میں فائر سیفٹی کے اصولوں کی خلاف ورزی پر صدر کی دو معروف مارکیٹیں سیل کر دی گئیں۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے مصروف تجارتی مرکز صدر میں فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پر دو مارکیٹیں سیل کر دی گئیں، جہاں مجموعی طور پر 200 سے زائد دکانیں واقع تھیں۔

رپورٹ کے مطابق ڈی سی ساؤتھ جاوید نبی نے بتایا کہ مارکیٹوں میں آگ بجھانے کے بنیادی انتظامات موجود نہیں تھے اور انتظامات مکمل ہونے تک یہ مارکیٹیں سیل رہیں گی۔

ڈی سی ساؤتھ نے واضح کیا کہ دونوں مارکیٹوں کو پہلے بھی نوٹس جاری کیے جا چکے تھے، تاہم مالکان نے لازمی حفاظتی اقدامات نہیں کیے۔ اس کے علاوہ، ضلع جنوبی کی تمام بڑی مارکیٹوں کا سروے جاری ہے اور جہاں فائر سیفٹی کے تقاضے پورے نہ ہوں گے، وہاں وارننگ کے بعد مارکیٹیں سیل کی جائیں گی۔

یہ اقدام گل پلازہ میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے کے بعد اُٹھایا گیا ہے، جس کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ نے ہدایت دی تھی کہ کراچی کی تمام بڑی مارکیٹوں میں فائر سیفٹی انتظامات کا فوری سروے کیا جائے اور کسی بھی قسم کی غفلت کی صورت میں سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

ادھر، شہریوں اور تاجروں میں اس اقدام کو سنجیدگی کے ساتھ لیا جا رہا ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق مارکیٹوں میں بنیادی حفاظتی اقدامات نہ ہونا بڑے حادثات کے امکانات کو بڑھاتا ہے، اور اس طرح کی کارروائی سے مستقبل میں کسی بھی بڑے نقصان سے بچاؤ ممکن ہو سکے گا۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مارکیٹیں سیل فائر سیفٹی

پڑھیں:

کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی

 نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔

مزید پڑھیں

لاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال

اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود