کراچی: فائر سیفٹی کی خلاف ورزی پر صدر کی دو مارکیٹیں سیل، 200 سے زائد دکانیں بند
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: شہرِ قائد میں فائر سیفٹی کے اصولوں کی خلاف ورزی پر صدر کی دو معروف مارکیٹیں سیل کر دی گئیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے مصروف تجارتی مرکز صدر میں فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پر دو مارکیٹیں سیل کر دی گئیں، جہاں مجموعی طور پر 200 سے زائد دکانیں واقع تھیں۔
رپورٹ کے مطابق ڈی سی ساؤتھ جاوید نبی نے بتایا کہ مارکیٹوں میں آگ بجھانے کے بنیادی انتظامات موجود نہیں تھے اور انتظامات مکمل ہونے تک یہ مارکیٹیں سیل رہیں گی۔
ڈی سی ساؤتھ نے واضح کیا کہ دونوں مارکیٹوں کو پہلے بھی نوٹس جاری کیے جا چکے تھے، تاہم مالکان نے لازمی حفاظتی اقدامات نہیں کیے۔ اس کے علاوہ، ضلع جنوبی کی تمام بڑی مارکیٹوں کا سروے جاری ہے اور جہاں فائر سیفٹی کے تقاضے پورے نہ ہوں گے، وہاں وارننگ کے بعد مارکیٹیں سیل کی جائیں گی۔
یہ اقدام گل پلازہ میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے کے بعد اُٹھایا گیا ہے، جس کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ نے ہدایت دی تھی کہ کراچی کی تمام بڑی مارکیٹوں میں فائر سیفٹی انتظامات کا فوری سروے کیا جائے اور کسی بھی قسم کی غفلت کی صورت میں سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
ادھر، شہریوں اور تاجروں میں اس اقدام کو سنجیدگی کے ساتھ لیا جا رہا ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق مارکیٹوں میں بنیادی حفاظتی اقدامات نہ ہونا بڑے حادثات کے امکانات کو بڑھاتا ہے، اور اس طرح کی کارروائی سے مستقبل میں کسی بھی بڑے نقصان سے بچاؤ ممکن ہو سکے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مارکیٹیں سیل فائر سیفٹی
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔