پشاور میں 6 ہزار سے زائد مین ہولز بغیر ڈھکن، شہریوں کی جانیں خطرے میں
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں شہریوں کی سلامتی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے، جہاں شہر کی 42 یونین کونسلز میں 6 ہزار سے زائد مین ہولز بغیر ڈھکن کے کھلے پڑے ہیں۔ ان مین ہولز پر ڈھکن نصب کرنے کے لیے واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز پشاور (ڈبلیو ایس ایس پی) نے محکمہ لوکل گورنمنٹ سے خطیر فنڈز کی فراہمی کی باضابطہ درخواست کر دی ہے۔
ڈبلیو ایس ایس پی کا مراسلہ، فنڈز کی تفصیل جاریمحکمہ لوکل گورنمنٹ کو ارسال کیے گئے مراسلے کے مطابق ڈبلیو ایس ایس پی کے دائرہ کار میں آنے والے علاقوں میں 6 ہزار 260 مین ہولز ایسے ہیں جن پر یا تو ڈھکن موجود نہیں یا وہ ٹوٹ چکے ہیں۔
ادارے کے مطابق مختلف اقسام کے مین ہولز کے ڈھکن نصب کرنے کے لیے مجموعی طور پر 5 کروڑ 79 لاکھ روپے درکار ہوں گے۔
مراسلے میں مین ہولز کی تفصیل ان کی وزن برداشت کرنے کی صلاحیت کے مطابق فراہم کی گئی ہے۔
15 ٹن وزن برداشت کرنے والے 1,707 مین ہولز کھلے ہیں یا ان کے ڈھکن ٹوٹ چکے ہیں۔ 6 ٹن وزن برداشت کرنے والے 3,169 مین ہولز اس وقت بغیر ڈھکن ہیں۔ 2 ٹن وزن برداشت کرنے والے 1,384 مین ہولز بھی کھلے پڑے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے پشاور کے دو رُخ: جی ٹی روڈ سے آگے چھپی دنیائیں
ڈبلیو ایس ایس پی کے مطابق یہ صورتحال شہریوں، بالخصوص بچوں اور موٹر سائیکل سواروں کے لیے شدید خطرے کا باعث بن رہی ہے۔
مین ہولز کے ڈھکن چوری ہونے کا انکشافڈبلیو ایس ایس پی حکام نے مراسلے میں انکشاف کیا ہے کہ شہر میں مین ہولز کے ڈھکن اکثر چوری ہو جاتے ہیں۔ حکام کے مطابق لوہے کے ڈھکن بار بار چوری کیے جاتے رہے۔ سیمنٹ کے ڈھکن توڑ کر ان میں موجود سریا نکال لیا جاتا ہے۔ کنکریٹ کے مین ہولز کو بھی توڑ کر سریا چوری کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے بنیادی سہولیات سے محروم پشاور کا باڑہ شیخان پی ٹی آئی پر ایک سوالیہ نشان!
ان عوامل کے باعث مین ہولز کھلے رہ جاتے ہیں اور حادثات کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
جدید آر پی سی ڈھکن لگانے کا فیصلہچوری کے مسلسل واقعات کے پیش نظر ڈبلیو ایس ایس پی نے اب جدید آر پی سی (RPC) مین ہول ڈھکن نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو زیادہ مضبوط اور چوری کے امکانات سے محفوظ سمجھے جاتے ہیں۔ حکام کے مطابق جلد اس منصوبے پر عملی کام کا آغاز کیا جائے گا۔
ڈبلیو ایس ایس پی کے مطابق سال 2025 کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں 2 ہزار 261 مین ہولز کے ڈھکن نصب کیے جا چکے ہیں، تاہم باقی ماندہ مین ہولز کے لیے فوری فنڈز کی فراہمی ناگزیر ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پشاور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پشاور مین ہولز کے ڈھکن ڈبلیو ایس ایس پی ڈھکن نصب کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔