برطانیہ اور پاکستان کے تعلقات انتہائی مضبوط اور مثبت ہیں: برطانوی وزیرداخلہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
برطانوی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے برطانیہ اور پاکستان کے تعلقات کو مضبوط اور مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کی حکومتیں باہمی رابطے میں رہتی ہیں۔
لندن میں خصوصی گفتگو کے دوران شبانہ محمود کا کہنا تھا کہ برطانیہ اور پاکستان کے درمیان تعاون کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ انہوں نے برطانوی امیگریشن نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنا اپنی اولین ترجیح قرار دیا اور کہا کہ ماضی میں قانونی اور غیر قانونی دونوں طرح کے تارکینِ وطن اس نظام کا فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔
انہوں نے بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز پر قابو پانے کے لیے پولیس اصلاحات کو ناگزیر قرار دیا۔
شبانہ محمود نے اپنی شناخت کے حوالے سے کہا کہ وہ خود کو برطانوی، انگلش، برمنگھم کی رہائشی مسلمان سمجھتی ہیں، جن کے والدین کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے، اور وہ اس پر فخر محسوس کرتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ انہیں پاکستانی کھانے بے حد پسند ہیں اور وہ خود بھی اچھا کھانا بناتی ہیں۔ ان کے مطابق پالک گوشت اور قیمہ ان کی خاص ڈشز ہیں، جبکہ ویک اینڈ پر وہ والدہ کے ہاتھ کے بنے کھانے ضرور کھاتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔