پاکستانی حکام نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں تقریباً 195,000 کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) بلاک کیے، جو شہری ڈیٹا بیس میں موجود مختلف مسائل کی نشاندہی کرتا ہے۔وزارتِ داخلہ کی جانب سے سینیٹ کو فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 72,703 قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے، جبکہ سندھ میں 49,666 کیسز رپورٹ ہوئے۔ پنجاب میں 29,852 شناختی کارڈز بلاک کیے گئے، جبکہ بلوچستان میں یہ تعداد 34,990 رہی۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 5,731 قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے۔ اسی دوران آزاد جموں و کشمیر میں 1,410 اور گلگت بلتستان میں 758 شناختی کارڈز بلاک ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔وزارتِ داخلہ کے مطابق 130,885 قومی شناختی کارڈز سیکشن 18 کے تحت بلاک کیے گئے، جبکہ 64,225 شناختی کارڈز عدالتی احکامات کی بنیاد پر معطل کیے گئے۔ اسی عرصے کے دوران تحقیقات مکمل ہونے کے بعد 46,000 سے زائد بلاک شدہ شناختی کارڈز بحال بھی کر دیے گئے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی 148,000 سے زائد قومی شناختی کارڈز بلاک ہیں، جن پر تحقیقات جاری ہیں۔نادرا کے مطابق زیادہ تر کیسز میں غلط معلومات کی فراہمی یا قانونی معاملات حل نہ ہونے کے باعث شناختی کارڈز بلاک کیے گئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: شناختی کارڈز بلاک کیے گئے قومی شناختی کارڈز بلاک

پڑھیں:

حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات

واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سکیورٹی ٹیم سے وابستہ ایک خفیہ سروس اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اہلکار پر الزام ہے کہ اس نے نائب صدر کے سفری انتظامات سے متعلق حساس معلومات میڈیا تک پہنچائیں۔

امریکی خفیہ سروس کے ترجمان انتھونی گگلیلمی نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ نائب صدر کے حفاظتی یونٹ کے ایک رکن کے خلاف انتظامی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ممکنہ طور پر فوجداری تحقیقات بھی کی جا سکتی ہیں۔

ترجمان کے مطابق اہلکار پر آپریشنل اور معلوماتی سکیورٹی سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ایسی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو کسی اعلیٰ سرکاری شخصیت کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتی ہو۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک امریکی نشریاتی ادارے نے رپورٹ شائع کی کہ نائب صدر جے ڈی وینس اپنی سکیورٹی ٹیم سے بعض ذاتی نوعیت کے سفری انتظامات کی درخواست کرتے رہے ہیں، جس پر بعض اہلکار ناراضی کا اظہار کر رہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق ان درخواستوں میں ایک واقعہ یہ بھی شامل تھا جس میں جے ڈی وینس مبینہ طور پر اپنے بیٹے کو گالف کی تربیت کے لیے ایک محفوظ گالف کورس تک فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے لے جانا چاہتے تھے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے ’میرین ٹو’ نامی ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کی تجویز زیر غور تھی۔ میرین ٹو وہ سرکاری ہیلی کاپٹر ہے جو امریکی نائب صدر کے سفر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

تاہم بعد ازاں خراب موسم اور گرج چمک کے باعث یہ پرواز منسوخ کر دی گئی اور منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔

تاحال جے ڈی وینس کے دفتر کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے تک خفیہ سروس نے مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف سرکاری وسائل کے استعمال بلکہ حساس سکیورٹی معلومات کے افشا سے متعلق بھی اہم سوالات اٹھا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران پر امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہو گئی، 645 زخمی
  • آسام میں سیلاب سے 50 افراد ہلاک، 7 لاکھ بےگھر
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت