پاکستانی حکام نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں تقریباً 195,000 کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) بلاک کیے، جو شہری ڈیٹا بیس میں موجود مختلف مسائل کی نشاندہی کرتا ہے۔وزارتِ داخلہ کی جانب سے سینیٹ کو فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 72,703 قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے، جبکہ سندھ میں 49,666 کیسز رپورٹ ہوئے۔ پنجاب میں 29,852 شناختی کارڈز بلاک کیے گئے، جبکہ بلوچستان میں یہ تعداد 34,990 رہی۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 5,731 قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے۔ اسی دوران آزاد جموں و کشمیر میں 1,410 اور گلگت بلتستان میں 758 شناختی کارڈز بلاک ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔وزارتِ داخلہ کے مطابق 130,885 قومی شناختی کارڈز سیکشن 18 کے تحت بلاک کیے گئے، جبکہ 64,225 شناختی کارڈز عدالتی احکامات کی بنیاد پر معطل کیے گئے۔ اسی عرصے کے دوران تحقیقات مکمل ہونے کے بعد 46,000 سے زائد بلاک شدہ شناختی کارڈز بحال بھی کر دیے گئے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی 148,000 سے زائد قومی شناختی کارڈز بلاک ہیں، جن پر تحقیقات جاری ہیں۔نادرا کے مطابق زیادہ تر کیسز میں غلط معلومات کی فراہمی یا قانونی معاملات حل نہ ہونے کے باعث شناختی کارڈز بلاک کیے گئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: شناختی کارڈز بلاک کیے گئے قومی شناختی کارڈز بلاک

پڑھیں:

بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان

اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔

سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔

حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔

اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔

متعلقہ مضامین

  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان