خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں ہلکی بارش اور برفباری کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
کولئی پلاس، تورغر، بٹگرام، مانسہرہ اور کرم کے اضلاع میں تیز ہواوُں اور گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش اور پہاڑوں پرہلکی برفباری کا امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اور جزوی ابر آلود بالائی پہاڑی اضلاع میں شدید سرد رہنے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق چترال بالائی و زیریں، دیر بالائی، سوات، شانگلہ، ایبٹ اباد، کو ہستان (بالائی و زیریں) میں ہواؤں کے ساتھ ہلکی بارش اور فباری کا امکان ہے۔ کولئی پلاس، تورغر، بٹگرام، مانسہرہ اور کرم کے اضلاع میں تیز ہواوُں اور گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش اور پہاڑوں پرہلکی برفباری کا امکان ہے۔ صوابی، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور ڈی آئی خان کے اضلاع میں چند مقامات پر رات اور صبح کے اوقات میں دھند چھائے رہنے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق کم سے کم درجہ حرارت کالام میں منفی 6، مالم جبہ میں منفی پانچ، پارا چنار اور دروش میں منفی ایک جبکہ چترال میں صفر ریکارڈ کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہلکی بارش اور کا امکان ہے اضلاع میں
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔