افغانستان کے ایجنٹ دہشتگردوں کو بلوچ عوام کے ساتھ مل کر شکست دیں گے، وزیر دفاع
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں سرگرم دہشتگرد افغانستان کے ایجنٹ ہیں۔ یہ لوگ ریاست کو بلیک میل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو عناصر ہمارے دشمن ہیں، یہ انہی کے ایجنٹ ہیں ۔ دشمنوں کی پشت پناہی سے پاکستان پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان کے دہشت گرد افغانستان کے ایجنٹ ہیں، ہم انہیں بلوچ عوام کے ساتھ مل کر شکست دیں گے۔ وفاقی دارالحکومت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں سرگرم دہشتگرد افغانستان کے ایجنٹ ہیں۔ یہ لوگ ریاست کو بلیک میل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو عناصر ہمارے دشمن ہیں، یہ انہی کے ایجنٹ ہیں۔ دشمنوں کی پشت پناہی سے پاکستان پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ پچھلی دہائیوں کے دوران بلوچستان میں ترقی ہوئی، سڑکیں اور تعلیمی ادارے تعمیر کیے گئے ہیں۔ جمہوری کلچر بلوچ قوم کا حق ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپنے وسائل پر مکمل طور پر بلوچوں کا حق ہے ۔ اگر بلوچستان میں صرف چند لوگ وسائل سے مستفید ہو رہے ہیں تو وفاقی حکومت عام لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: افغانستان کے ایجنٹ بلوچستان میں کے ایجنٹ ہیں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔