اٹلی: مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں، 100 سے زائد اہلکار زخمی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اٹلی کے شہر تورین میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں جس میں 100 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔
عالمی میڈیا رپورٹ میں پولیس حکام کے مطابق مظاہرین نے احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا، جس کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے، پولیس نے صورتحال پر قابو پانے اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا، جھڑپوں کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی سخت کر دی گئی جبکہ کئی سڑکیں عارضی طور پر بند رہیں۔
اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے واقعہ پر ردعمل دیتے ہوئے تشدد کی شدید مذمت کی اور کہا کہ عوامی املاک اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے ناقابلِ قبول ہیں، انہوں نے امن و امان برقرار رکھنے اور قانون کی عملداری یقینی بنانے پر زور دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔