چھوٹے کاروباروں کے لیے قرض تک رسائی آسان: ابھی مائیکروفنانس بینک اور ڈیجی کھاتہ میں اشتراک
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ اثاثوں کی کمی کے باعث بینکوں سے قرض تک محدود رسائی ہے، جس کے نتیجے میں ان کاروباروں کی ترقی شدید متاثر ہوتی ہے۔ اسی اہم مسئلے کے حل کے لیے ابھی مائیکروفنانس بینک نے ڈیجیٹل لیجر پلیٹ فارم ’ڈیجی کھاتہ‘ کے ساتھ اشتراک کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت چھوٹے کاروباروں کو کیش فلو کی بنیاد پر قرض کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
اس اشتراک کے تحت وہ ایس ایم ایز جو ڈیجی کھاتہ کے ذریعے اپنے روزمرہ مالی حسابات اور لین دین کو ڈیجیٹل طور پر ریکارڈ کرتے ہیں، انہیں بینک قرض حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔ ڈیجی کھاتہ کے ذریعے تیار کردہ قابلِ تصدیق ڈیجیٹل بیلنس شیٹ اور کیش فلو ڈیٹا کو قرض کی اہلیت جانچنے کے لیے استعمال کیا جائے گا، جس سے روایتی ضمانتوں اور اثاثوں پر انحصار کم ہو جائے گا۔
اس سلسلے میں دونوں اداروں کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں ابھی مائیکروفنانس بینک کی چیف کمیونیکیشنز آفیسر مریم پرویز اور ڈیجی کھاتہ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عدنان اسلم نے دستخط کیے۔ تقریب میں ابھی فنانشلز کے انٹرپرینیور اِن ریزیڈنس کبیر نقوی سمیت دونوں اداروں کے اعلیٰ حکام اور نمائندے بھی موجود تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ابھی مائیکروفنانس بینک کی سی سی او مریم پرویز نے کہا کہ یہ اشتراک ٹیکنالوجی پر مبنی فنانس کے ذریعے چھوٹے کاروباروں کو مالیاتی خودمختاری فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے، ایس ایم ایز پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، لیکن بدقسمتی سے ان میں سے بڑی تعداد اب بھی باضابطہ مالیاتی نظام سے باہر ہے۔ ڈیجی کھاتہ کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ہم ان کاروباروں تک پہنچ رہے ہیں جو پہلے ہی ڈیجیٹل طور پر کام کر رہے ہیں مگر قرض کی سہولت سے محروم ہیں۔
ڈیجی کھاتہ کے سی ای او عدنان اسلم نے اس موقع پر کہا کہ ڈیجیٹل ریکارڈ کیپنگ کو سرمائے تک رسائی سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے، آج کے چھوٹے کاروبار ڈیجیٹل ٹولز کے ذریعے قیمتی مالیاتی ڈیٹا تیار کر رہے ہیں، مگر اس کے باوجود انہیں باضابطہ کریڈٹ تک رسائی حاصل نہیں ہو پاتی۔ ابھی مائیکروفنانس بینک کے ساتھ یہ شراکت داری ڈیجی کھاتہ کے تاجروں کے لیے اپنی ڈیجیٹل سرگرمی کو عملی مالی مواقع میں بدلنے کا راستہ فراہم کرے گی، جو ان کی کاروباری ترقی کے اگلے مرحلے میں معاون ثابت ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ابھی مائیکروفنانس بینک کے ذریعے کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز