data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی:پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ اثاثوں کی کمی کے باعث بینکوں سے قرض تک محدود رسائی ہے، جس کے نتیجے میں ان کاروباروں کی ترقی شدید متاثر ہوتی ہے۔ اسی اہم مسئلے کے حل کے لیے ابھی مائیکروفنانس بینک نے ڈیجیٹل لیجر پلیٹ فارم ’ڈیجی کھاتہ‘ کے ساتھ اشتراک کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت چھوٹے کاروباروں کو کیش فلو کی بنیاد پر قرض کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

اس اشتراک کے تحت وہ ایس ایم ایز جو ڈیجی کھاتہ کے ذریعے اپنے روزمرہ مالی حسابات اور لین دین کو ڈیجیٹل طور پر ریکارڈ کرتے ہیں، انہیں بینک قرض حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔ ڈیجی کھاتہ کے ذریعے تیار کردہ قابلِ تصدیق ڈیجیٹل بیلنس شیٹ اور کیش فلو ڈیٹا کو قرض کی اہلیت جانچنے کے لیے استعمال کیا جائے گا، جس سے روایتی ضمانتوں اور اثاثوں پر انحصار کم ہو جائے گا۔

اس سلسلے میں دونوں اداروں کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں ابھی مائیکروفنانس بینک کی چیف کمیونیکیشنز آفیسر مریم پرویز اور ڈیجی کھاتہ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عدنان اسلم نے دستخط کیے۔ تقریب میں ابھی فنانشلز کے انٹرپرینیور اِن ریزیڈنس کبیر نقوی سمیت دونوں اداروں کے اعلیٰ حکام اور نمائندے بھی موجود تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ابھی مائیکروفنانس بینک کی سی سی او مریم پرویز نے کہا کہ یہ اشتراک ٹیکنالوجی پر مبنی فنانس کے ذریعے چھوٹے کاروباروں کو مالیاتی خودمختاری فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے، ایس ایم ایز پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، لیکن بدقسمتی سے ان میں سے بڑی تعداد اب بھی باضابطہ مالیاتی نظام سے باہر ہے۔ ڈیجی کھاتہ کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ہم ان کاروباروں تک پہنچ رہے ہیں جو پہلے ہی ڈیجیٹل طور پر کام کر رہے ہیں مگر قرض کی سہولت سے محروم ہیں۔

ڈیجی کھاتہ کے سی ای او عدنان اسلم نے اس موقع پر کہا کہ ڈیجیٹل ریکارڈ کیپنگ کو سرمائے تک رسائی سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے، آج کے چھوٹے کاروبار ڈیجیٹل ٹولز کے ذریعے قیمتی مالیاتی ڈیٹا تیار کر رہے ہیں، مگر اس کے باوجود انہیں باضابطہ کریڈٹ تک رسائی حاصل نہیں ہو پاتی۔ ابھی مائیکروفنانس بینک کے ساتھ یہ شراکت داری ڈیجی کھاتہ کے تاجروں کے لیے اپنی ڈیجیٹل سرگرمی کو عملی مالی مواقع میں بدلنے کا راستہ فراہم کرے گی، جو ان کی کاروباری ترقی کے اگلے مرحلے میں معاون ثابت ہوگی۔

منیر عقیل انصاری وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ابھی مائیکروفنانس بینک کے ذریعے کے لیے

پڑھیں:

اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر  کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔

اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری