برطانیہ اور پاکستان کے تعلقات انتہائی مضبوط ہیں، شبانہ محمود
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260204-08-5
لندن(مانیٹر نگ ڈ یسک ) برطانوی وزیرداخلہ شبانہ محمود نے برطانیہ اورپاکستان کے تعلقات کو انتہائی مضبوط اور مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ دونوں حکومتیں مسلسل رابطہ میں رہتی ہیں۔شبانہ محمود نے برطانوی امیگریشن سسٹم میں موجود سقم دور کرنے کو اولین ترجیح قرار دیا اور کہا کہ قانونی اور غیر قانونی امیگرینٹس دونوں ہی امیگریشن سسٹم کا استحصال کرتے چلے آ رہے ہیں۔برطانوی وزیرداخلہ نے بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز پر قابو پانے کے لیے پولیس ریفارمز کو ناگزیر قرار دیا۔شبانہ محمود کا کہنا تھا کہ ان کی شناخت برٹش ، انگلش ، برمنگھم کی رہائشی مسلمان کی ہے جس کے والدین کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے اور انہیں اس پر فخر ہے۔شبانہ محمود نے بتایا کہ وہ پاکستانی کھانوں کی شوقین ہیں اور خود بھی اچھے کھانے بناتی ہیں ، ان کی اسپیشلٹی پالک گوشت اور قیمہ ہے ، ویک اینڈ پر جب گھر جاتی ہیں تو والدہ کے ہاتھ کے بنے کھانے کھاتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔