3 سال میں 1 لاکھ 95 ہزار کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ بلاک
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260204-08-17
اسلام آباد(مانیٹر نگ ڈ یسک ) وزارت داخلہ نے سینیٹ میں ریکارڈ پیش کیا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں مجموعی طور پر 1 لاکھ 95 ہزار کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق شناختی کارڈز بلاک ہونے کی شرح سندھ اور خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ رہی۔ ریکارڈ کے مطابق خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 72,703 شناختی کارڈز بلاک کیے گئے جبکہ سندھ میں تین سال کے دوران 49,666 شناختی کارڈز پر کارروائی عمل میں آئی، پنجاب میں 29,852 اور بلوچستان میں 34,990 شناختی کارڈز بلاک کیے گئے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 5,731 شناختی کارڈزبلاک ہوئے، جبکہ آزاد کشمیر میں 1,410 اور گلگت بلتستان میں 758 شناختی کارڈز پر کارروائی کی گئی۔وزارت داخلہ کے مطابق سیکشن 18 کے تحت 1 لاکھ 30 ہزار 885 شناختی کارڈز بلاک کیے گئے، جبکہ عدالتی احکامات پر 64 ہزار 225 شناختی کارڈز کے خلاف کارروائی ہوئی، گزشتہ تین برسوں کے دوران 46 ہزار سے زائد بلاک شدہ شناختی کارڈز بحال بھی کیے جا چکے ہیں۔حکام کے مطابق اس وقت بھی 1 لاکھ 48 ہزار سے زائد شناختی کارڈز تاحال بلاک ہیں اور ان سے متعلق انکوائریز کا عمل جاری ہے، نادرا کا مؤقف ہے کہ یہ شناختی کارڈز غلط معلومات فراہم کرنے اور مقدمات کی عدم پیروی کے باعث بلاک کیے گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شناختی کارڈز بلاک کیے گئے کے مطابق
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔