Jasarat News:
2026-07-24@05:56:55 GMT

کراچی میں جین زی سڑکوں پر!!

اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سید فیصل حسین
ہم تو اس نسل سے ہیں جس نے اپنی زندگی ’’خوف‘‘ اور ’’احتیاط‘‘ کے نام پر گنوادی۔ سچ بولتے ہوئے خوف کا شکار رہے یا پھر لسانی، سیاسی تعصبات ذاتی دوستیوں یا مفاداتی خواہشات کے باعث اپنی مرضی کی بات کو سچ کہ کر بیان کرنے کی کوشش کرتے رہے یا آرام طلبی کو حاوی کرکے حالات کی بہتری کا انتظار کرتے رہے۔ ایسی منافقانہ سوچ اور عمل سے کبھی تبدیل آئی ہے نہ آئے گی۔ ہماری زندگی جیسے تیسے گزر گئی ہے جو بچی ہے وہ عشروں کی پڑی لت ’’احتیاط‘‘ یا ’’آرام پسندی‘‘ میں ہی گزرنی ہے البتہ باتیں بگھارنے، شیخی مارنے، سب کچھ ہمیں پتا ہے کا خبط اور دوسروں کو اپنے سے کم تر سمجھنے کا عمل ساتھ ساتھ جاری رہے گا۔

یہ کسی فرد واحد نہیں پوری تین نسل کی کہانی ہے جن کو آج کی دنیا میں بومرز، جین ایکس اور ملینیئلز کہا جاتا ہے اب ان تین نسلوں کو سوچ لینا چاہیے کہ ان کا دور ختم ہونے کے قریب ہے، آج کی دنیا جین زی کی دنیا ہے آج کل پاکستان میں سب سے زیادہ چرچے جین زی کے ہیں پاکستان کی اشرافیہ اور طاقتور لوگوں کو اگر کسی کا خوف ہے کہ کوئی ان کی طاقت اور اقتدار چھین سکتا ہے تو وہ جین زی ہے۔ جین زی کو غالب آنا ہے، زمین میں شترمرغ کی طرح سر چھپا کر زندہ رہنے والے کبھی حال میں مستقبل نہیں دیکھ سکتے یہی ہمارا حال ہے۔

میں نے کراچی میں پہلی دفعہ جین زی کو سڑکوں پر دیکھا ہے بظاہر ایسا نظر آتا ہے ان کو جماعت اسلامی نے اپنا پلیٹ فارم دیا یا جین زی کے نام پر نوجوانوں نے خود یہ پلیٹ فارم استعمال کیا بہرحال ان دونوں باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا جین زی کے نام سے نوجوانوں کا سڑکوں پر آنا آغاز انقلاب ہے۔ نوید سحر ہے۔ سورج کی پہلی کرن ہے۔ اندھیری رات میں چاند کی روشنی ہے۔ شب کے آخری پہر میں ستاروں کا چمکنا ہے۔ سمندری کی لہروں کا موجیں مارنا ہے۔ پھولوں کی مہک ہے۔ دریا کی روانی ہے۔ ان نوجوانوں کو سب سے بڑی مزاحمت ہم جیسی نسل کے لوگوں سے کرنا پڑے گی کیونکہ جن کے ذہنوں میں کبھی تازہ خیالات جنم نہیں لیتے وہ ہر نئی سوچ سے لڑتے ہیں کیونکہ نئی اور تازہ سوچ ہم جیسے کنویں کے مینڈکوں کو اپنے بوسیدہ وجود کو کمزور کرنے کا پیغام لگتی ہے اور اس وقت ہم اسی حالت کا شکار ہیں۔

اگر ہم میں اب بھی اخلاقیات، انسانیت کا کوئی معمولی عنصر موجود ہے اپنی نسلوں سے پیار ہے تو جین زی کا ساتھ دینا چاہیے یا پھر کم از کم اس سے مزاحمت نہیں کرنا چاہیے، پھر بھی ہم کو شوق ستائے تو اس خواہش کو بھی پورا کرلیں آج نہیں تو کل ہم کو شکست ہونی ہی ہونی ہے یہ نوشتہ دیوار ہے۔ جو ہم اندھے نہیں پڑھ پارہے۔ ہمارا خاتمہ بہت قریب ہے اور ہماری نسلوں کا مستقبل بہت مضبوط ہے، ہمارے ہاتھوں سے بگاڑے جانے والا پاکستان بہت جلد چمکتا دمکتا پاکستان بننے جارہا ہے۔ ایک بات اور نوٹ کرلیں بلکہ اس کا اسکرین شاٹ لیکر رکھ لیں کراچی کے جین زی پورے پاکستان کے جین زی کو نکالیں گے جس کا آغاز اتوار کی شام کراچی سے ہوگیا ہے۔ (فیصل حسین کی وال سے)

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 

کراچی (نوائے وقت رپورٹ) ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔ سپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا کہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تو ملزموں نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔ 13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بنک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزم بنک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہو گئے تھے۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد