data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ٹنڈوجام ( جسارت نیوز) ملکی اور عالمی ماہرین نے زور دیا ہے کہ ڈیٹا کو سمجھنے اور مؤثر طریقے سے استعمال کیے بغیر ہم عالمی مقابلے میں پیچھے رہ جائیں گے اگر آج ہم دنیا کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہوئے تو مستقبل میں چیلنجز مزید پیچیدہ ہوں گے ۔یہ باتیں ماہرین نے دو روزہ، تیسری‘‘ڈیٹا ڈرائیون سوشل چینج’’کانفرنس اور پہلے انٹرنیشنل ریسرچ سمپوزیم 2026 کے دوران کہیں یہ کانفرنس سندھ زرعی یونیورسٹی، ٹنڈوجام کے انفارمیشن ٹیکنالوجی سینٹر کی زیر میزبانی، سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کے تعاون سے منعقد کی گئی کانفرنس کا مقصد زراعت، صحت اور تعلیم میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مسائل کے حل تلاش کرنا تھاافتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلرانجینئر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کہا کہ ماضی میں فیصلے تجربے اور اندازوں پر کیے جاتے تھے لیکن آج شواہد اور تجزیے پر مبنی فیصلے ضروری ہیں انہوں نے کہا کہ ڈیٹا صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ لوگوں کے مسائل، ضروریات اور امکانات کی عکاسی کرتا ہے اور ہر شماری ایک انسانی زندگی کی نمائندگی کرتی ہیانھوں نے مزید کہا کہ ڈیٹا کی مدد سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کون سے بچے اسکول سے باہر ہیں کون سے علاقے صحت کی سہولیات سے محروم ہیں اور کون سی برادریاں غربت یا موسمی خطرات کا زیادہ شکار ہیں 2022 کے سیلاب کے دوران، ڈیٹا کی بنیاد پر لوگوں کی منتقلی اور امدادی سرگرمیاں کامیابی سے انجام دی گئیں علاوہ ازیں، ڈیٹا سینٹر کے قیام نے پاکستان آرمی کو دشمن کو ٹیکنالوجی کے ذریعے شکست دینے میں مدد دی، جو ڈیٹا کی طاقت کا واضح ثبوت ہییونیورسٹی آف صوفی ازم اینڈ ماڈرن سائنس بھٹ شاہ کے وائس چانسلر، ڈاکٹر امام الدین کوسو نے کہا کہ یونیورسٹیاں محض علم بانٹنے کے ادارے نہیں بلکہ علم پیدا کرنے کے مراکز ہیں انہوں نے کہا کہ زراعت آج بھی معاشی اور سماجی ترقی میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے اور اسے جدید بنانا زرعی یونیورسٹیوں کی بنیادی ذمہ داری ہےFAO کے صوبائی سربراہ، ڈاکٹر جولئیس موچیمی نے کہا کہ ڈیٹا سائنس، تحقیق اور سماجی ترقی کو مضبوط کرتا ہے اور کریٹیکل ڈیٹا اینالیسز جدت اور ترقی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہیملیشیا سے آئے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر نور زمان جنجھی نے خبردار کیا کہ جدید دور کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہونے پر مستقبل میں مشکلات بڑھ جائیں گی انہوں نے کہا کہ زراعت کو جدید ٹیکنالوجی کے مطابق ڈھالنا اور روایتی طریقے چھوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہییونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کے پروفیسر اور کسان 360 ایپ کے بانی ڈاکٹر ثاقب علی نے بتایا کہ سیٹلائٹ تصاویر اور مصنوعی ذہانت کے ملاپ سے فصلوں کی صحت، پانی کی ضرورت اور پیداوار کے بارے میں درست پیشگوئی ممکن ہو گئی ہے انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی زراعت، شہری منصوبہ بندی، ماحولیاتی نگرانی اور آفات کے انتظام میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔کانفرنس میں ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز ڈاکٹر اعجاز علی کھوہارو، ڈائریکٹر ITC پروفیسر ڈاکٹر میر سجاد حسین ٹالپر، ڈاکٹر محمد یعقوب کوندھر اور ڈاکٹر ذوالفقار احمد مہر نے بھی خطاب کیا چین، برطانیہ، ملیشیا، جنوبی کوریا، یونیورسٹی آف ایگریکلچر راولپنڈی یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کراچی اور شہید بینظیرآباد یونیورسٹیوں کے ماہرین نے مقالات پیش کیے مجموعی طور پر 224 تحقیقی مقالے جمع کرائے گئے ۔

جسارت نیوز گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کہ ڈیٹا

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا