ڈیٹا کو اگر نا سمجھا تو عالمی مقابلے میں ہم پیچھے رہ جائینگے ، ماہرین
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوجام ( جسارت نیوز) ملکی اور عالمی ماہرین نے زور دیا ہے کہ ڈیٹا کو سمجھنے اور مؤثر طریقے سے استعمال کیے بغیر ہم عالمی مقابلے میں پیچھے رہ جائیں گے اگر آج ہم دنیا کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہوئے تو مستقبل میں چیلنجز مزید پیچیدہ ہوں گے ۔یہ باتیں ماہرین نے دو روزہ، تیسری‘‘ڈیٹا ڈرائیون سوشل چینج’’کانفرنس اور پہلے انٹرنیشنل ریسرچ سمپوزیم 2026 کے دوران کہیں یہ کانفرنس سندھ زرعی یونیورسٹی، ٹنڈوجام کے انفارمیشن ٹیکنالوجی سینٹر کی زیر میزبانی، سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کے تعاون سے منعقد کی گئی کانفرنس کا مقصد زراعت، صحت اور تعلیم میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مسائل کے حل تلاش کرنا تھاافتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلرانجینئر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کہا کہ ماضی میں فیصلے تجربے اور اندازوں پر کیے جاتے تھے لیکن آج شواہد اور تجزیے پر مبنی فیصلے ضروری ہیں انہوں نے کہا کہ ڈیٹا صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ لوگوں کے مسائل، ضروریات اور امکانات کی عکاسی کرتا ہے اور ہر شماری ایک انسانی زندگی کی نمائندگی کرتی ہیانھوں نے مزید کہا کہ ڈیٹا کی مدد سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کون سے بچے اسکول سے باہر ہیں کون سے علاقے صحت کی سہولیات سے محروم ہیں اور کون سی برادریاں غربت یا موسمی خطرات کا زیادہ شکار ہیں 2022 کے سیلاب کے دوران، ڈیٹا کی بنیاد پر لوگوں کی منتقلی اور امدادی سرگرمیاں کامیابی سے انجام دی گئیں علاوہ ازیں، ڈیٹا سینٹر کے قیام نے پاکستان آرمی کو دشمن کو ٹیکنالوجی کے ذریعے شکست دینے میں مدد دی، جو ڈیٹا کی طاقت کا واضح ثبوت ہییونیورسٹی آف صوفی ازم اینڈ ماڈرن سائنس بھٹ شاہ کے وائس چانسلر، ڈاکٹر امام الدین کوسو نے کہا کہ یونیورسٹیاں محض علم بانٹنے کے ادارے نہیں بلکہ علم پیدا کرنے کے مراکز ہیں انہوں نے کہا کہ زراعت آج بھی معاشی اور سماجی ترقی میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے اور اسے جدید بنانا زرعی یونیورسٹیوں کی بنیادی ذمہ داری ہےFAO کے صوبائی سربراہ، ڈاکٹر جولئیس موچیمی نے کہا کہ ڈیٹا سائنس، تحقیق اور سماجی ترقی کو مضبوط کرتا ہے اور کریٹیکل ڈیٹا اینالیسز جدت اور ترقی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہیملیشیا سے آئے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر نور زمان جنجھی نے خبردار کیا کہ جدید دور کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہونے پر مستقبل میں مشکلات بڑھ جائیں گی انہوں نے کہا کہ زراعت کو جدید ٹیکنالوجی کے مطابق ڈھالنا اور روایتی طریقے چھوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہییونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کے پروفیسر اور کسان 360 ایپ کے بانی ڈاکٹر ثاقب علی نے بتایا کہ سیٹلائٹ تصاویر اور مصنوعی ذہانت کے ملاپ سے فصلوں کی صحت، پانی کی ضرورت اور پیداوار کے بارے میں درست پیشگوئی ممکن ہو گئی ہے انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی زراعت، شہری منصوبہ بندی، ماحولیاتی نگرانی اور آفات کے انتظام میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔کانفرنس میں ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز ڈاکٹر اعجاز علی کھوہارو، ڈائریکٹر ITC پروفیسر ڈاکٹر میر سجاد حسین ٹالپر، ڈاکٹر محمد یعقوب کوندھر اور ڈاکٹر ذوالفقار احمد مہر نے بھی خطاب کیا چین، برطانیہ، ملیشیا، جنوبی کوریا، یونیورسٹی آف ایگریکلچر راولپنڈی یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کراچی اور شہید بینظیرآباد یونیورسٹیوں کے ماہرین نے مقالات پیش کیے مجموعی طور پر 224 تحقیقی مقالے جمع کرائے گئے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کہ ڈیٹا
پڑھیں:
بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
گلگت: بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ دعا گو ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں کیونکہ خطے اور دنیا میں امن کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایران میں ایک اسکول پر میزائل حملے کے نتیجے میں معصوم بچوں کی شہادت افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کا بوجھ صرف متاثرہ ممالک ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے عوام اٹھا رہے ہیں، اس لیے امن کی تمام کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ملک میں کوئی ایسا سیاستدان نہیں جس نے ان کی طرح ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ گلگت بلتستان کی ہر تحصیل تک پہنچے ہیں اور عوام کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔
انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کا واحد ایسا فلاحی پروگرام ہے جو براہِ راست غریب عوام تک پہنچتا ہے۔ ان کے مطابق اس پروگرام کے خلاف کی جانے والی تمام سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے میں ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کا تاریخی کردار رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو دفاعی اور معاشی دونوں لحاظ سے مضبوط ہونا چاہیے اور ایسی معاشی پالیسی اختیار کی جانی چاہیے جس سے عام آدمی کو فائدہ پہنچے۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کو یقین دلایا کہ پیپلز پارٹی مقامی لوگوں کو ان کے وسائل پر حق ملکیت دلانے کے لیے کام کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں میں مقامی آبادی کو حصہ دار بنایا جانا چاہیے تاکہ ترقی کے ثمرات سب سے پہلے مقامی لوگوں تک پہنچ سکیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر عوام نے انتخابات میں ان کی جماعت پر اعتماد کیا تو گلگت بلتستان میں صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔