data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامرس رپورٹر) آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن نے ایف بی آر سے درخواست کی ہے کہ سپر ٹیکس کے واجبات کو حکومت کی جانب سے سالوں سے صنعت کاروں اور برآمد کنندگان کو واجب الادا سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور دیگر زیر التواء ریفنڈز کی مد میں ایڈجسٹ کیا جائے۔اپٹما کے چیئرمین کامران ارشد نے کہا کہ صنعت، خاص طور پر برآمدی ٹیکسٹائل سیکٹر، پچھلے کئی ماہ سے شدید مالی مشکلات کا شکار ہے کیونکہ برآمدی آرڈرز میں کمی اور مجموعی طور پر کاروباری ماحول خراب ہے۔ اس صورتحال میں صنعت ایک ساتھ بڑی مقدار میں ٹیکس کی ادائیگی کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔انہوں نے مزید کہا کہ سپر ٹیکس کی ایک قسط میں ادائیگی نہ صرف صنعت کی روزمرہ کاروباری سرگرمیوں میں خلل ڈالے گی بلکہ ملکی معیشت کی مجموعی کارکردگی پر بھی منفی اثر ڈالے گی۔ کامران ارشد نے کہا کہ سپر ٹیکس کی فوری ادائیگی عملی طور پر ممکن نہیں کیونکہ صنعت کو کاروبار کرنے کی بلند لاگت، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، دوہری شرح سود، زیادہ ٹیکسز اور خام مال و درمیانی اجزا کی بڑے پیمانے پر درآمدات کے باعث شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے، جس سے مقامی انڈسٹری متاثر ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر سینکڑوں ارب روپے کا سپر ٹیکس ایک ساتھ طلب کیا گیا تو یہ ورکنگ کیپیٹل ختم کر دے گا، کیش فلو متاثر ہوگا اور زیادہ تر کاروبار اپنی روزمرہ مالی ذمہ داریاں، جیسے تنخواہوں اور یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی، پورا کرنے میں ناکام رہیں گے۔کامران ارشد نے ایف بی آر سے درخواست کی کہ سپر ٹیکس کے واجبات کو طویل عرصے سے زیر التوا انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر ریفنڈز جیسے ٹی یو ایف اور ڈی ایل ٹی ایل کے بدلے ایڈجسٹ کیا جائے، اور باقی واجبات کو آسان کاروباری اقساط میں تقسیم کیا جائے تاکہ صنعت معقول مدت میں اپنا ٹیکس ادا کر سکے بغیر کاروباری عمل پر منفی اثر ڈالے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ سپر ٹیکس کے تحت برآمد کنندگان کے لیے سیکشن فور س کے تحت ٹیکس کی حساب کتاب قابل اطلاق آمدنی پر مبنی ہونی چاہیے کیونکہ یہ برآمد کنندگان ٹیکس سال 2024 تک فائنل ٹیکس ریجیم کے تحت تھے۔ اپٹما نے زور دیا کہ اگر ایف بی آر صنعت کو عملی طور پر سپر ٹیکس کی ادائیگی میں ریلیف فراہم نہیں کرے گا تو بڑے پیمانے پر کاروبار بند ہوں گے، جس سے روزگار اور ملکی زرمبادلہ پر منفی اثر پڑے گا۔

کامرس رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہ سپر ٹیکس ٹیکس کی کہا کہ

پڑھیں:

پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے

سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔  اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ 

کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ 

سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔ 

او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا