بھارت میں برسرِاقتدار جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی نظریاتی سرپرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کا ہندوتوا ایجنڈا اب اقلیتوں کے بعد خود ہندو سماج میں تفریق کا باعث بننے لگا ہے۔

بین الاقوامی جریدے”دی ڈپلومیٹ” کے مطابق، حالیہ سیاسی اور سماجی حالات کے تناظر میں بی جے پی اور آر ایس ایس کو اندرونی کشمکش اور اختلافات کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقلیتوں کو نشانہ بنانے والی تفریق اب ہندو سماج کے مختلف طبقات کے درمیان بھی واضح ہوتی جا رہی ہے۔

دی ڈپلومیٹ کے مطابق، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے نئے مساواتی قوانین نے بھارت میں ذات پات کے حساس مسئلے پر بحث کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے، جس کے باعث ہندو سماج کے اندر تنا میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کا ہندوتوا نظریہ پہلے اقلیتوں میں تقسیم اور احساسِ محرومی پیدا کرتا تھا، تاہم اب یہی نظریہ ہندو سماج کے اندر بھی تفریق کا سبب بن رہا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہندوتوا سوچ کے نتیجے میں پیدا ہونے والا یہ خلفشار نہ صرف بھارت کے سماجی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ پورے خطے میں انتہا پسندی کے رجحانات کو بھی فروغ دے سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا