بھارت میں برسرِاقتدار جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی نظریاتی سرپرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کا ہندوتوا ایجنڈا اب اقلیتوں کے بعد خود ہندو سماج میں تفریق کا باعث بننے لگا ہے۔

بین الاقوامی جریدے”دی ڈپلومیٹ” کے مطابق، حالیہ سیاسی اور سماجی حالات کے تناظر میں بی جے پی اور آر ایس ایس کو اندرونی کشمکش اور اختلافات کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقلیتوں کو نشانہ بنانے والی تفریق اب ہندو سماج کے مختلف طبقات کے درمیان بھی واضح ہوتی جا رہی ہے۔

دی ڈپلومیٹ کے مطابق، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے نئے مساواتی قوانین نے بھارت میں ذات پات کے حساس مسئلے پر بحث کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے، جس کے باعث ہندو سماج کے اندر تنا میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کا ہندوتوا نظریہ پہلے اقلیتوں میں تقسیم اور احساسِ محرومی پیدا کرتا تھا، تاہم اب یہی نظریہ ہندو سماج کے اندر بھی تفریق کا سبب بن رہا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہندوتوا سوچ کے نتیجے میں پیدا ہونے والا یہ خلفشار نہ صرف بھارت کے سماجی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ پورے خطے میں انتہا پسندی کے رجحانات کو بھی فروغ دے سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی

افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔

مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور

بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔

یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔

کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی