گزشتہ 24 گھنٹوں میں بلوچستان میں سردی کی صورتحال، موسمیاتی رپورٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سرد موسم کی شدت بدستور جاری ہے۔
صوبے کے کئی حصوں میں رات اور صبح کے اوقات میں سردی میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے معمولاتِ زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سبی میں کم سے کم درجہ حرارت 12 جبکہ تربت میں 16 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ نوکنڈی میں درجہ حرارت 11 اور چمن میں 7 ڈگری سینٹی گریڈ رہا جو سرد موسم کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
سرد ترین علاقوں میں زیارت شامل ہے جہاں کم سے کم درجہ حرارت منفی 1 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا، جبکہ ژوب میں درجہ حرارت 3 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔ سرد ہواؤں کے باعث احساسِ سردی مزید بڑھ گیا ہے۔
ساحلی علاقوں میں بھی سرد موسم برقرار ہے، گوادر میں کم سے کم درجہ حرارت 13 اور جیوانی میں 14 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا۔ محکمہ موسمیات نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ سرد موسم کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور غیر ضروری طور پر سردی میں باہر نکلنے سے گریز کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈگری سینٹی گریڈ
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔