آسٹریلیا کے ایک 13 سالہ لڑکے نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھلے سمندر میں پھنسے اپنے خاندان کی جان بچا لی۔

آسٹن ایپل بی نے خراب موسم اور تیز لہروں کے باوجود مسلسل 4 گھنٹے تیراکی کر کے مدد حاصل کی۔

یہ واقعہ 30 جنوری کو مغربی آسٹریلیا کے علاقے کوئنڈالوپ بیچ کے قریب پیش آیا جہاں آسٹن اپنی والدہ جوآن ایپل بی، بھائی بو اور بہن گریس کے ساتھ پیڈل بورڈز اور ایک کائیک پر سمندر میں موجود تھا۔

تیز ہواؤں اور سمندری لہروں نے خاندان کو تیزی سے ساحل سے دور دھکیل دیا جبکہ ان کی کائیک بھی خراب ہو گئی، صورتِ حال بگڑنے پر جوآن نے انتہائی مشکل فیصلہ کرتے ہوئے اپنے بڑے بیٹے آسٹن کو مدد کے لیے ساحل تک جانے کو کہا۔

جوآن کے مطابق میں نے آسٹن سے کہا کہ یہ صورتِ حال بہت تیزی سے خطرناک ہو سکتی ہے۔

آسٹن نے پہلے کائیک کے ذریعے واپس جانے کی کوشش کی مگر ناکام رہا، جس کے بعد اس نے 2.

5 میل (4 کلو میٹر) طویل فاصلہ تیراکی کے ذریعے طے کرنے کا فیصلہ کیا۔

دورانِ تیراکی اس نے اپنی لائف جیکٹ بھی اتار دی کیونکہ وہ اس کی رفتار کم کر رہی تھی۔

آسٹن نے بتایا کہ لہریں بہت بڑی تھیں، میں بس یہی سوچ رہا تھا کہ تیراکی کرتے رہنا ہے۔

شام 6 بجے کے قریب وہ ساحل تک پہنچا، فوراً ایمرجنسی سروسز کو فون کیا اور شدید تھکن کے باعث وہیں گر پڑا۔

دوسری جانب جوآن سمندر میں ایک ہی پیڈل بورڈ پر دونوں بچوں کو سنبھالے رکھے ہوئے تھیں، جبکہ وہ لوگ تقریباً 9 میل دور سمندر میں بہتے چلے گئے۔

جوآن نے اعتراف کیا کہ مجھے لگا تھا کہ شاید آسٹن زندہ نہ بچ سکا ہو۔

بالآخر رات ساڑھے 8 بجے ریسکیو ہیلی کاپٹر نے ماں اور دونوں بچوں کو تلاش کر لیا، بعد ازاں آسٹن کو اسپتال میں اپنے خاندان سے دوبارہ ملا دیا گیا، جہاں اسے بہادری پر سب نے خراجِ تحسین پیش کیا۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا