آسٹریلیا: 13 سالہ لڑکے نے 2.5 میل تیراکی کر کے سمندر میں پھنسے خاندان کی جان بچا لی
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
آسٹریلیا کے ایک 13 سالہ لڑکے نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھلے سمندر میں پھنسے اپنے خاندان کی جان بچا لی۔
آسٹن ایپل بی نے خراب موسم اور تیز لہروں کے باوجود مسلسل 4 گھنٹے تیراکی کر کے مدد حاصل کی۔
یہ واقعہ 30 جنوری کو مغربی آسٹریلیا کے علاقے کوئنڈالوپ بیچ کے قریب پیش آیا جہاں آسٹن اپنی والدہ جوآن ایپل بی، بھائی بو اور بہن گریس کے ساتھ پیڈل بورڈز اور ایک کائیک پر سمندر میں موجود تھا۔
تیز ہواؤں اور سمندری لہروں نے خاندان کو تیزی سے ساحل سے دور دھکیل دیا جبکہ ان کی کائیک بھی خراب ہو گئی، صورتِ حال بگڑنے پر جوآن نے انتہائی مشکل فیصلہ کرتے ہوئے اپنے بڑے بیٹے آسٹن کو مدد کے لیے ساحل تک جانے کو کہا۔
جوآن کے مطابق میں نے آسٹن سے کہا کہ یہ صورتِ حال بہت تیزی سے خطرناک ہو سکتی ہے۔
آسٹن نے پہلے کائیک کے ذریعے واپس جانے کی کوشش کی مگر ناکام رہا، جس کے بعد اس نے 2.
دورانِ تیراکی اس نے اپنی لائف جیکٹ بھی اتار دی کیونکہ وہ اس کی رفتار کم کر رہی تھی۔
آسٹن نے بتایا کہ لہریں بہت بڑی تھیں، میں بس یہی سوچ رہا تھا کہ تیراکی کرتے رہنا ہے۔
شام 6 بجے کے قریب وہ ساحل تک پہنچا، فوراً ایمرجنسی سروسز کو فون کیا اور شدید تھکن کے باعث وہیں گر پڑا۔
دوسری جانب جوآن سمندر میں ایک ہی پیڈل بورڈ پر دونوں بچوں کو سنبھالے رکھے ہوئے تھیں، جبکہ وہ لوگ تقریباً 9 میل دور سمندر میں بہتے چلے گئے۔
جوآن نے اعتراف کیا کہ مجھے لگا تھا کہ شاید آسٹن زندہ نہ بچ سکا ہو۔
بالآخر رات ساڑھے 8 بجے ریسکیو ہیلی کاپٹر نے ماں اور دونوں بچوں کو تلاش کر لیا، بعد ازاں آسٹن کو اسپتال میں اپنے خاندان سے دوبارہ ملا دیا گیا، جہاں اسے بہادری پر سب نے خراجِ تحسین پیش کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔