data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اکثر لوگوں نے یہ تجربہ ضرور کیا ہوگا کہ جب وہ کسی نئی جگہ، ہوٹل یا اجنبی ماحول میں پہلی رات سونے کی کوشش کرتے ہیں تو نیند آنکھوں سے کوسوں دور رہتی ہے۔

بستر آرام دہ ہونے کے باوجود کروٹیں بدلتی رہتی ہیں اور دماغ مسلسل متحرک محسوس ہوتا ہے۔ طویل عرصے سے یہ مسئلہ عام مشاہدے میں تھا، مگر اب سائنسدانوں نے اس کی واضح وجہ جاننے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔

جاپان کی ناگویا یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے محققین نے اس سوال پر تحقیق کی کہ آخر کیوں کسی نئی جگہ پہلی رات نیند متاثر ہوتی ہے، جبکہ اگلی رات نسبتاً پرسکون نیند آ جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے سائنسدانوں نے چوہوں پر تجربات کیے تاکہ دماغ کے ان حصوں کو سمجھا جا سکے جو نئے ماحول میں سرگرم ہو جاتے ہیں۔

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے نیورونز کے ایک مخصوص گروپ کی نشاندہی کی جو اجنبی ماحول میں خاص طور پر متحرک ہو جاتا ہے۔ یہ نیورونز ایک کیمیائی مرکب خارج کرتے ہیں جسے نیوروٹینسن کہا جاتا ہے۔ یہ مرکب دماغ کو مکمل طور پر آرام کی حالت میں جانے سے روکتا ہے اور بیداری کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

محققین کے مطابق یہ دماغی عمل دراصل ایک حفاظتی نظام کا حصہ ہے۔ جب انسان کسی غیر مانوس جگہ پر ہوتا ہے تو اس کا دماغ لاشعوری طور پر ممکنہ خطرات کو بھانپنے کے لیے زیادہ چوکس ہو جاتا ہے۔ اس کیفیت کو محققین نے چوکیدار سے تشبیہ دی ہے، جو اس وقت تک پوری طرح آرام نہیں کرتا جب تک یہ یقین نہ ہو جائے کہ ماحول محفوظ ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نئی جگہ پہلی رات دماغ کا ایک حصہ جزوی طور پر جاگتا رہتا ہے، جیسے وہ مسلسل اردگرد کے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ انسان خود کو تھکا ہوا محسوس کرنے کے باوجود گہری نیند میں نہیں جا پاتا۔ جیسے ہی دماغ کو ماحول محفوظ ہونے کا یقین ہو جاتا ہے، اگلی رات نیند کا معیار بہتر ہو جاتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ دہائیوں سے یہ معلوم تھا کہ نئی جگہ نیند متاثر ہوتی ہے، مگر اس کے پیچھے دماغی سطح پر کیا عمل ہوتا ہے، یہ پہلی بار واضح ہوا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج جرنل پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع کیے گئے ہیں، جو انسانی نیند اور دماغی رویوں کو سمجھنے میں ایک اہم پیش رفت سمجھے جا رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہو جاتا ہے پہلی رات نئی جگہ

پڑھیں:

جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ

ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان