کمبوڈیا لے جا کر پاکستانیوں کو فروخت کرنیوالا گروہ گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
— فائل فوٹو
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے کمبوڈیا لے جا کر پاکستانیوں کو فروخت کرنے والے گروہ کو گرفتار کر لیا۔
ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے کے مطابق گروہ 6 افراد پر مشتمل تھا اور اس کے رکن 2 ملزمان کمبوڈیا میں مقیم تھے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے نے بتایا ہے کہ پاکستان میں مقیم 4 ملزمان دیگر نوجوانوں کو اپنے جال میں پھنساتے تھے اور اس مقصد کے لیے وہ سوشل میڈیا پر کمبوڈیا میں کال سینٹر پر جاب کا اشتہار دیتے تھے، اشتہار دیکھ کر سادہ لوح نوجوان ملزمان سے رابطہ کرتے تھے۔
ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل لاہور نے کارروائی کرتے ہوئے بیرونِ ملک شہریوں کے اغواء میں ملوث نیٹ ورک کے کارندے کو گرفتار کر لیا۔
ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے کے مطابق ملزمان پڑھے لکھے اورکمپیوٹر اسکلز والے لوگوں کو ٹارگٹ کرتے تھے، کمبوڈیا میں مقیم ملزمان فی کس 2 ہزار ڈالرز لیتے تھے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے نے بتایا ہے کہ پاکستانیوں کو قیدی بنا کر ان سے آن لائن اسکیمنگ کا کام کروایا جاتا تھا، کام سے انکار کرنے والوں پر تشدد بھی کیا جاتا تھا۔
ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے کے مطابق یہ گروہ اب تک 100 سے زائد پاکستانیوں کو کمبوڈیا بھیج چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے پاکستانیوں کو
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔