شوگر ملز ریفرنس: نیب کو ایک ماہ میں احتساب عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
لاہور (نیوز ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی جانب سے چوہدری شوگر ملز ریفرنس میں بطور گارنٹی جمع کروائے گئے سات کروڑ روپے کی واپسی کے لیے نیب کو ایک ماہ کے اندر متعلقہ احتساب عدالت میں کیس بند کرنے کے لیے ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کر دی۔
سماعت چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ نے کی، جس میں جسٹس جواد ظفر اور جسٹس عبہر گل خان بھی شامل تھے، دوران سماعت وفاقی حکومت کے وکیل ایڈیشنل اٹارنی جنرل رفاقت ڈوگر اور نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران نیب کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نئی نیب ترامیم کے بعد چیئرمین نیب نے چوہدری شوگر ملز کیس، یعنی مریم نواز کے خلاف ریفرنس بند کرنے کی منظوری دے دی ہے، اس پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ کیا مستقبل میں کوئی نیا نیب بورڈ آ کر اس کیس کو دوبارہ کھول سکتا ہے؟
نیب کے وکیل نے جواب دیا کہ نیا بورڈ چوہدری شوگر ملز کیس کو ری اوپن کر سکتا ہے۔
اس پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ اگر ایسا ہے تو نیب بورڈ کی جانب سے کیس بند کرنے کی منظوری کی کوئی قانونی حیثیت باقی نہیں رہتی، عدالت نے کہا کہ اگر اس مرحلے پر ضمانت کی رقم ریلیز کی گئی تو تمام ذمہ داری عدالت پر آ جائے گی جبکہ نیب کو چاہیے تھا کہ ریفرنس بند کرنے کے لیے متعلقہ احتساب عدالت سے رجوع کرتا۔
عدالت نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی درخواست نمٹاتے ہوئے نیب کو حکم دیا کہ وہ ایک ماہ کے اندر متعلقہ احتساب عدالت میں انکوائری بند کرنے کے لیے باقاعدہ ریفرنس دائر کرے۔
واضح رہے کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے چوہدری شوگر ملز ریفرنس میں بطور گارنٹی جمع کروائی گئی سات کروڑ روپے کی رقم کی واپسی کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چوہدری شوگر ملز احتساب عدالت کرنے کی کے لیے نیب کو
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔