پاکستان اور قازقستان کے درمیان پیٹرولیم، ریلوے اور مصنوعی ذہانت سمیت کئی شعبوں میں تعاون پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
پاکستان اور قازقستان کے درمیان کان کنی اور پیٹرولیم، میری ٹائم، کسٹم، ریلوے، ٹرانزٹ ٹریڈ، پلانٹ پراٹیکشن اور ویٹرنری، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ترقی کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ کیا گیا۔پاکستان اور قازقستان میں مختلف شعبوں میں تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کی تقریب میں وزیراعظم شہبازشریف اور صدر قاسم جومارت توکایووف نے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔دونوں ممالک کے درمیان کان کنی اور پیٹرولیم، میری ٹائم، کسٹم، ریلوے، ٹرانزٹ ٹریڈ، پلانٹ پراٹیکشن اور ویٹرنری، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ترقی کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے امن دستوں اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق معاہدے کی دستاویز کا بھی تبادلہ کیا گیا۔قبل ازیں قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف کے اعزاز میں وزیر اعظم ہاؤس میں استقبالیے کا اہتمام کیا گیا۔وزیراعظم ہاؤس پہنچنے پر وزیراعظم شہباز شریف نے معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیا، دونوں رہنماؤں کے درمیان مصافحہ اور خوشگوار جملوں کا تبادلہ ہوا۔تقریب کے آغاز پر دونوں ممالک کے ترانے بجائے گئے، چاق چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔صدر قاسم جومارت توکایووف نے اپنے وفد کا وزیراعظم شہباز شریف سے تعارف کروایا۔یاد رہے کہ قازقستان کے صدر 2 روزہ سرکاری دورے پر وفد کے ہمراہ گزشتہ روز پاکستان پہنچے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: قازقستان کے کے درمیان میں تعاون کیا گیا
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔