اقوامِ متحدہ کی بلوچستان حملوں کی سخت مذمت، دہشت گردی کو بزدلانہ قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں “سنگین اور بزدلانہ دہشت گردی کی کارروائیاں” قرار دیا ہے۔
جاری کیے گئے ایک بیان میں سلامتی کونسل نے کہا کہ 31 جنوری 2026 کو بلوچستان بھر میں ہونے والے یہ حملے انتہائی قابلِ مذمت ہیں۔ یو این ایس سی نے حملوں میں جاں بحق افراد کے لواحقین، صوبے کے گورنر اور پاکستان کے عوام سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا، جبکہ زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔
سلامتی کونسل کے بیان میں کہا گیا کہ دہشت گردی اپنی تمام شکلوں اور مظاہر کے ساتھ عالمی امن و سلامتی کے لیے سب سے سنگین خطرات میں سے ایک ہے۔ بیان میں زور دیا گیا کہ ان دہشت گرد حملوں میں ملوث عناصر، ان کے منصوبہ سازوں، مالی معاونین اور سرپرستوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ناگزیر ہے۔
یو این ایس سی نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی ممکن ہو سکے۔ بیان میں اس بات کو بھی دہرایا گیا کہ دہشت گردی کسی بھی صورت، کسی بھی مقصد یا جواز کے تحت قابلِ قبول نہیں۔
سلامتی کونسل نے کہا کہ تمام ریاستوں کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر، انسانی حقوق، پناہ گزینوں کے قوانین اور بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف ہر ممکن اقدام کرنا چاہیے۔
UN Security Council Press Statement on Terrorist Attacks in Pakistan pic.
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) February 4, 2026
اس سے قبل چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیان نے بھی بلوچستان میں ہونے والے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ چین دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمیشہ پاکستان کی بھرپور حمایت کرتا رہے گا۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے لیے افسوس اور زخمیوں و متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔
دوسری جانب سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں جاری کلیئرنس اور سرچ آپریشنز کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد 197 ہو گئی ہے۔ نُشکی ضلع اور صوبے کے دیگر علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔ یہ آپریشنز ہفتے کے روز صوبے بھر میں ہونے والے مربوط دہشت گرد حملوں کے بعد شروع کیے گئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: میں ہونے والے سلامتی کونسل کے خلاف
پڑھیں:
بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین کی جمعیت الوفاق الوطني الاسلامی نے خبردار کیا ہے کہ حکومت نے ایک ایسے اقدام کے ذریعے، جسے اس جماعت نے خطرناک اور جبری قرار دیا ہے، جعفری اوقاف ادارے کو تحلیل کرکے اسے ایک ایسے کونسل میں ضم کر دیا ہے جو سیاسی اقتدار کے زیرِ اثر کام کرتی ہے۔ جمعیت الوفاق کے مطابق یہ اقدام شرعی احکام میں مداخلت، آئین کی خلاف ورزی اور ملک میں مذہبی آزادیوں سے متعلق رائج اصولوں اور روایات پر حملہ ہے۔ الوفاق نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ کئی صدیوں کے دوران بحرین یا دنیا کے کسی دوسرے ملک میں اس نوعیت کی مداخلت کی مثال نہیں ملتی۔ جماعت کے مطابق حکومت نے علاقائی حالات، کشیدگیوں اور جنگی ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جعفری مکتبِ فکر کی مذہبی شخصیات، اداروں اور اوقافی املاک پر قبضے اور مداخلت کی راہ اختیار کی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ جمعیت الوفاق نے مزید کہا کہ یہ اقدامات شرعی ضوابط کی کھلی اور ناقابلِ قبول خلاف ورزی ہیں، اور انہیں ایسے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے جن کا مقصد شہریوں کو احتجاج اور مخالفت سے روکنا ہے۔ جمعیت کے مطابق حکومت نے ان غیر قانونی اقدامات کے لیے پہلے ہی ملک میں ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا تھا جو غیر اعلانیہ ہنگامی حالت سے مشابہ تھا اور جس میں سکیورٹی دباؤ کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا گیا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ سلسلہ سید محمد الموسوی کی مبینہ طور پر دورانِ حراست شہادت اور ان کے جسدِ خاکی کی حوالگی سے شروع ہوا، جس پر تشدد کے آثار نمایاں تھے۔ اس کے بعد بعض خاندانوں کی شہریت منسوخ کرنے، انہیں جبری ہجرت پر مجبور کرنے، مختلف علاقوں سے درجنوں علماء کی گرفتاری اور ان کی تصاویر کی تشہیر جیسے اقدامات سامنے آئے، جنہیں جمعیت نے انتقامی کارروائیاں قرار دیا۔ اسی طرح متعدد مساجد کو ائمہ جماعت سے محروم کرنے، دینی مدارس، حوزاتِ علمیہ اور مذہبی منبروں کی سرگرمیوں کو محدود یا معطل کرنے کا بھی ذکر کیا گیا۔
جمعیت الوفاق کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ پالیسی دراصل ملک کی دینی اور سماجی ساخت پر حملے، اداروں کی بندش، املاک کی ضبطی اور ان کے انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کرکے ایک "سکیورٹی اور جابرانہ نظم" نافذ کرنے کی تمہید ہے، جو فرقہ وارانہ بنیادوں پر قائم ہے اور شرعی، سماجی، قانونی و انسانی اصولوں کی کوئی پاسداری نہیں کرتا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ فرمان نمبر (31) برائے سال 2026 ایک سیاسی نوعیت کا جبری فیصلہ ہے جو عوامی رضامندی کے بغیر مسلط کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف بحرین کے ایک تاریخی اور اصیل ادارے کو نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ ایک ایسا زبردستی کا تغیر نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو صدیوں پر محیط بحران کو جنم دے سکتا ہے۔
جمعیت کے مطابق تاریخ اس اقدام کو بحرینی حکومت کی سب سے بڑی غلطیوں میں شمار کرے گی، کیونکہ یہ فطرت، دین، آزادی اور قانون کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ الوفاق نے زور دیا کہ یہ جبری فرمان ہزاروں اوقاف کی خیانت اور غصب کے مترادف ہے، جو مخصوص شرعی عناوین اور شرائط کے تحت وقف کیے گئے تھے اور جن میں سیاسی مداخلت یا ردوبدل کی کوئی گنجائش نہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ وقف کا شرعی اور قانونی تشخص کسی حکومتی حکم یا فرمان سے تبدیل نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس سلسلے میں کیے گئے تمام اقدامات باطل اور شرعی و قانونی جواز سے محروم ہیں۔
جمعیت الوفاق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فرمان کو فوری طور پر واپس لے اور آمریت، ہٹ دھرمی اور ایسے منصوبے پر اصرار ترک کرے جو صرف طاقت، خوف اور شرعی احکام کی مخالفت کے سہارے ہی جاری رکھا جا سکتا ہے۔ جمعیت کا مزید کہنا تھا کہ شیعہ اور سنی اوقاف کو ایسے انتظامی ڈھانچے کے تحت لانے کی کوشش، جسے مذہبی حلقے قبول نہیں کرتے، اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے سیاسی نظام کو ازسرِ نو متعین کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ نظام شراکت داری، جوازِ حکمرانی اور قومی ہم آہنگی کی بنیادی خصوصیات سے محروم ہو چکا ہے۔ بیان کے اختتام پر جمعیت الوفاق نے ایک "نئے سماجی معاہدے" کی تشکیل کا مطالبہ کیا، جو عوامی اور قانونی بنیادوں پر استوار ہو، تمام شہریوں اور سماجی طبقات کے حقوق کی ضمانت دے اور ان کے مستقبل، شناخت اور آزادیوں کے حوالے سے اعتماد اور اطمینان کو مضبوط بنائے۔