Juraat:
2026-07-24@03:48:38 GMT

صحافت کے نام پر ایک سیاہ دھبہ

اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT

صحافت کے نام پر ایک سیاہ دھبہ

آواز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امداد سومرو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سندھ میں صحافت کو ہمیشہ جدوجہد، سچائی اور عوامی حقوق کے تحفظ کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے ، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں صحافت کے نام پر ایسے کردار سامنے آئے ہیں جو نہ صرف اس مقدس پیشے کو بدنام کر رہے ہیں بلکہ سماج، ریاست اور اداروں کے لیے ایک سنگین خطرہ بھی بن چکے ہیں۔میرپورخاص میں حالیہ پیش آنے والا واقعہ جس میں دو نام نہاد صحافی رضا رند اور فلک شیر، جو مبینہ طور پر اردو کے بڑے میڈیا اداروں سے وابستہ تھے ، حساس اداروں کے افسران کے نام پر بلیک میلنگ، فراڈ اور ٹھیکے حاصل کرنے کی کوششوں کے دوران گرفتار ہوئے،اسے کسی ایک یا دو افراد تک محدود نہیں سمجھا جا سکتا۔ ایک ملزم فرار ہو گیا جبکہ ایک ساتھی کو گرفتار کر لیا گیا۔
یہ واقعہ دراصل ایک منظم، محفوظ اور طاقتور نیٹ ورک کی نشاندہی کرتا ہے جو صحافت کو ڈھال بنا کر ریاستی اداروں کے نام پر نفسیاتی دہشت پھیلا رہا ہے ۔نوّے کی دہائی میں ایک ایسا دور بھی تھا جب سندھ کی صحافت کی سینئر نسل نے انقلاب برپا کیا۔ انہوں نے عوامی حقوق کے دشمنوں کو بے نقاب کیا، جعلی پولیس مقابلوں کے ماہر افسران کو للکارا، اختیارات کے ناجائز استعمال کرنے والوں اور قومی خزانے کو لوٹنے والوں کا احتساب کیا۔ انہی صحافیوں نے سیاسی کارکنوں اور مظلوموں کی آواز بن کر امان جندو کو انصاف دلوایا، ایک بڑے ادارے کے سینئر افسر کو پھانسی کے پھندے تک پہنچایا، اور جرگائی وڈیروں، خونخوار سرداروں، منشیات فروشوں اور پولیس کے گٹھ جوڑ کو عوامی اور عدالتی سطح پر بے نقاب کیا۔اس کے برعکس آج کی صحافتی نسل چند باکردار افراد کو چھوڑ کراکثریت میں یا تو براہِ راست منشیات فروشوں سے جڑی ہوئی نظر آتی ہے یا ان کی سہولت کار بنی ہوئی ہے ۔ جاگیرداروں، رشوت خور افسران کی ٹاؤٹ گیری، مخبری اور دربارداری نے صحافت کو اس حد تک آلودہ کر دیا ہے کہ تاریخ میں اس کی مثال مشکل سے ملتی ہے ۔ جو لوگ آج بھی صحافت کو حق حلال کی روزی اور ایک مشن سمجھ کر کرتے ہیں، وہ انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں، جبکہ بلیک میلنگ اور ناجائز کمائی کو ذریعہ بنانے والے نوّے فیصد سے بھی زیادہ ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے باعزت صحافی خود کو صحافی کہلوانے سے بھی گریز کرنے لگے ہیں۔
صحافت کے نام پر نفسیاتی مریضوں اور دولت کی ہوس میں مبتلا عناصر نے عوام کو اس قدر تنگ کر دیا ہے کہ اب رشوت خور پولیس اور ریونیو افسران بھی فرشتے دکھائی دینے لگے ہیں۔حساس اداروں کے نام کا غلط استعمال محض فراڈ نہیں بلکہ ریاستی سلامتی کے ساتھ کھلا کھیل ہے ۔ جب کسی شہری، افسر یا ٹھیکیدار کو یہ کہا جائے کہ ادارے آپ کے پیچھے ہیں، تو یہ خوف، دباؤ اور ذہنی اذیت کا ایسا طریقہ ہے جو کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے ۔سندھ کے ہر شہر میں تین سے پانچ مختلف پریس کلب، ایوانِ صحافت اور نیشنل پریس کلب کے نام پر دکانیں کھلی ہوئی ہیں۔ میرپورخاص کیس میں ملزمان کے اعترافات سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ بعض صحافتی اداروں سے وابستہ افراد نہ صرف اس نیٹ ورک سے واقف تھے بلکہ اس کی سرپرستی بھی کرتے رہے ۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ ادارے صحافیوں کے تحفظ کے لیے ہیں تو پھر یہ بلیک میلنگ، جعلی شناختوں، سی ڈی آرز اور حساس ڈیٹا کے مراکز کیسے بن گئے ؟یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے ۔صحافی یا بلیک میلر؟صحافت کا کام سوال اٹھانا، احتساب کرنا اور سچ لکھنا ہے ، نہ کہ پیسوں کے عوض نوکریوں کے وعدے کرنا، میڈیکل ٹیسٹوں کے نتائج بدلوانا، تعلیمی بورڈز کے نمبرز فکس کرانا یا سرکاری ٹھیکے دلوانا۔ ایسی سرگرمیاں صحافت نہیں بلکہ کھلی دلالی اور عوام دشمنی ہیں۔اس پوری صورتحال کا سب سے بڑا نقصان ان ایماندار صحافیوں کو پہنچ رہا ہے جو محدود وسائل، دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود سچ لکھتے ہیں۔ جب عوام کی نظر میں صحافی کا لفظ بلیک میلر، ٹاؤٹ اور دلال کے مترادف بن جائے تو اصل صحافت اور اصل صحافی سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔اب وقت آ گیا ہے کہ صحافت کو بھی دیگر پیشوں کی طرح ضابطوں کے تحت لایا جائے ۔ جیسے ڈاکٹر، انجینئر اور وکیل تعلیمی اہلیت، ریگولیٹری کونسل، لائسنسنگ نظام اور ضابطے کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کے پابند ہیں، اسی طرح صحافت کے لیے بھی قانون سازی ہونی چاہیے ۔ہر وہ شخص جو موبائل فون لے کر گھروں، دفاتر اور دکانوں میں خود کو صحافی کہلواتا پھرتا ہے ، اسے روکنے کے لیے واضح قانونی معیار مقرر کیے جائیں۔ صحافی بننے کے لیے کم از کم تعلیمی اہلیت، پیشہ ورانہ تربیت اور باقاعدہ رجسٹریشن لازمی قرار دی جائے ۔اس سے بھی بڑھ کر صحافتی قیادت کی ذمہ داری ہے ۔ صحافتی رہنماؤں کو ان کالی بھیڑوں کی سرپرستی کرنے کے بجائے ان سے لاتعلقی اختیار کرنی ہوگی۔ صفوں کی صفائی کے بغیر صحافت کی بحالی ممکن نہیں۔ میرٹ، معیار اور اخلاقیات ہی صحافت کو دوبارہ عزت دلا سکتی ہیں۔اگر اس مرحلے پر بھی صحافتی برادری خاموش رہی تو کل صحافی اور بلیک میلر میں کوئی فرق باقی نہیں رہے گا۔ اور اگر یہی روش جاری رہی تو صحافت جیسے آفاقی اور مقدس پیشے کی موت دور نہیں۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: اداروں کے کے نام پر صحافت کو صحافت کے کے لیے

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف