فائر سیفٹی کی خلاف ورزی ، صدر ہاشو سینٹر،الیکٹرک مارکیٹ سیل
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
صدر میں 200سے زائد دکانیں سیل،مارکیٹ میں حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے
دکانداروں کو سات روز قبل نوٹس جاری ، انتظامات کیے جانے تک مارکیٹیں سیل رہیں گی
صدر ہاشو سینٹر اور الیکٹرک مارکیٹ سیل کر دی گئی، دونوں مارکیٹوں میں دو سو سے زائد دکانیں موجود ہیں۔تفصیلات کے مطابق فائر سیفٹی کی خلاف ورزی پر صدر کی دو مارکیٹیں سیل کردی گئیں ، جن میں صدر ہاشو سینٹر اور الیکٹرک مارکیٹ شامل ہیں، دونوں مارکیٹوں میں دو سو سے زائد دکانیں موجود ہیں۔اس کے علاوہ صدر موبائل مارکیٹ کی مشہور بریانی کی دکان بھی بند کر دی گئی۔اسسٹنٹ کمشنر کی سربراہی میں پولیس نے کارروائی کی گئی ، دکانیں سیل کرنے سے قبل پولیس کی جانب سے باقاعدہ اعلان کیا گیا کہ دکانوں کے اندر موجود افراد باہر آ جائیں۔اسسٹنٹ کمشنر رانا صفیان کے مطابق دکانداروں کو سات روز قبل نوٹس جاری کیے گئے تھے، تاہم مارکیٹ میں حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے۔انہوںنے کہا کہ فلور پر گیس سلنڈر، تھنر اور دیگر خطرناک سامان موجود تھا، جو کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا تھا۔ڈی ایس پی پریڈی لیاقت حیات نے بتایا کہ نوٹس دیے جانے کے سات دن بعد بھی صورتحال جوں کی توں رہی، جس پر کارروائی ناگزیر ہو گئی۔حکام کا کہنا ہے کہ صدر موبائل مارکیٹ میں واقع نصیب بریانی سینٹر میں تین ہیوی گیس سلنڈر موجود تھے، ہر سلنڈر میں تقریبا چالیس کلو گیس تھی۔دکان سیل کیے جانے کے دوران خریدار بریانی کی پلیٹیں ہاتھوں میں لیے باہر نکل آئے، جبکہ حکام نے بریانی کی دیگ دکان سے نکالنے کی اجازت دے دی۔اس حوالے سے ڈی سی ساتھ نے کہا کہ مارکیٹوں میں آگ بجھانے سمیت فائر سیفٹی سمیت دیگر انتظامات بھی نہیں تھے، انتظامات مکمل ہونے تک مارکیٹیں سیل رہیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔