ایران جو جمعہ کو عمان میں امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے جا رہا ہے نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ اس کا طاقتور بیلسٹک میزائل پروگرام کسی بھی مذاکرات میں ریڈ لائن ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایران کا یہ پروگرام مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا شمار ہوتا ہے اور اسے خطے میں دفاعی اور تلافی کی اہم طاقت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

گزشتہ سال جون 2025 میں اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے دوران ایران نے اسرائیل کی طرف متعدد بیلسٹک میزائل داغے جن کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک اور متعدد عمارتیں تباہ ہو گئیں۔

ماہرین کے مطابق اسرائیل نے اس دوران تقریباً ایک تہائی ایرانی میزائل لانچرز تباہ کیے۔ تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کے بعد ان کی صلاحیتیں پہلے سے بہتر ہیں۔

بیلسٹک میزائل کیا ہیں؟

بیلسٹک میزائل راکٹ سے چلنے والا ہتھیار ہوتا ہے جو ابتدائی مرحلے میں رہنمائی حاصل کرتا ہے لیکن زیادہ تر پرواز کے دوران کششِ ثقل کے تحت آزادانہ راستے پر چلتا ہے۔

یہ مختلف فاصلے تک وار ہیڈ پہنچاتا ہے، جن میں روایتی دھماکہ خیز یا حیاتیاتی، کیمیائی اور ممکنہ طور پر جوہری وار ہیڈ شامل ہو سکتے ہیں۔ مغربی ممالک ایران کے میزائل پروگرام کو خطے میں عدم استحکام اور ممکنہ جوہری ہتھیار کی ترسیل کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں، جبکہ ایران ہر قسم کے جوہری ہتھیار بنانے سے انکار کرتا ہے۔

ایران کے میزائل کی اقسام اور رینج

امریکا کے ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس کے مطابق ایران کے پاس مشرق وسطیٰ میں سب سے زیادہ بیلسٹک میزائل موجود ہیں۔ ایران کے میزائلز کی خود مقرر شدہ رینج 2,000 کلومیٹر (1,240 میل) ہے، جو اسرائیل تک پہنچنے کے لیے کافی ہے۔

ایران میں کئی میزائل سائٹس، خصوصاً تہران کے ارد گرد واقع ہیں، جبکہ مختلف صوبوں میں پانچ زیر زمین “میزائل سٹیز” بھی موجود ہیں، بشمول کرمان شاہ اور سمنان۔

اہم میزائلز میں سیجِل 2,000 کلومیٹر، عماد 1,700 کلومیٹر، غدر 2,000 کلومیٹر، شہاب-3 1,300 کلومیٹر، خورم شہر 2,000 کلومیٹر اور حویزہ 1,350 کلومیٹر شامل ہیں۔

نصف سرکاری ایرانی خبر رساں ادارے آئی ایس این اے کے مطابق ایران کے پاس اسرائیل تک پہنچنے والے کم از کم نو میزائل موجود ہیں جن میں سیجِل (2,500 کلومیٹر)، خیبر (2,000 کلومیٹر) اور حاج قاسم (1,400 کلومیٹر) شامل ہیں۔

میزائل حکمت عملی اور ترقی

ایران کے مطابق یہ میزائل امریکی، اسرائیلی اور دیگر ممکنہ خطے کے ہدف کے خلاف ایک مؤثر روک تھام اور تلافی کی طاقت ہیں۔ ایرانی رپورٹوں کے مطابق زیر زمین میزائل ڈپو، فائرنگ سسٹمز اور زیر زمین پیداواری مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں۔ ایران نے سنہ 2023 میں اپنا پہلا ہائپر سونک بیلسٹک میزائل بھی پیش کیا، جو آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ رفتار سے پرواز کر سکتا ہے اور انٹرسپٹ کرنا مشکل ہوتا ہے۔

علاقائی حملے ایران کا اسرائیل پر حملہ۔

ایران نے ماضی میں امریکا اور اسرائیل کے خلاف میزائل داغے ہیں جن میں قطر میں امریکی ال عُدید ایئر بیس، عراق میں اسرائیلی جاسوسی ہیڈ کوارٹر اور شام میں داعش کے خلاف میزائل حملے شامل ہیں۔ ایران نے پاکستان میں بلوچ عسکریت پسند گروہوں کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے میزائل پروگرام کی بنیاد زیادہ تر شمالی کوریا اور روسی ڈیزائنز پر ہے اور چین کی تکنیکی مدد سے اسے بہتر بنایا گیا ہے۔ ایران کے پاس کروز میزائلز بھی ہیں، جیسے KH-55، جو ایئر لانچڈ اور جوہری ہتھیار کے قابل ہیں اور 3,000 کلومیٹر تک پہنچ سکتے ہیں۔

ایران کے میزائل پروگرام نے خطے میں استحکام اور سلامتی کے لیے اہم خطرہ پیدا کر دیا ہے جبکہ ایران مسلسل اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایران کی دفاعی صلاحیتیں ایران کے بیلسٹک میزائل ایران کے خطرناک میزائل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایران کے بیلسٹک میزائل ایران کے خطرناک میزائل ایران کے میزائل میزائل پروگرام بیلسٹک میزائل 000 کلومیٹر ایران نے کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی

ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔

گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان