واشنگٹن: (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اُمید ہے ایران کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوں گے کیونکہ ایران مڈ نائٹ ہیمر جیسی کارروائی دوبارہ نہیں چاہے گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں، اُمید ہے یہ مذاکرات کامیاب ہوں گے، ایران کسی پیشرفت کا خواہشمند نظر آتا ہے تاہم یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا واقعی کوئی نتیجہ سامنے آتا ہے یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں لیکن اگلی ملاقات کہاں ہوگی، اس کا انہیں ابھی علم نہیں، ماضی میں بھی ایران کو بات چیت کا موقع ملا لیکن وہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوا جس کے بعد ہم نے ایران کے خلاف آپریشن مڈ نائٹ ہیمر کیا، مجھے نہیں لگتا کہ ایران مڈنائٹ ہیمر جیسی کارروائی دوبارہ چاہے گا۔

ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو کہا جنگ کے بجائے تجارت کریں، اب دونوں خوش ہیں، دنیا بھر کے تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا ترجیح ہے، پیوٹن نے سرد موسم میں حملے کیے یہ بہت افسوسناک ہے، یوکرین اور روس کی جنگ بھی ختم کروانا چاہتا ہوں۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ فوج کی تعیناتی سے واشنگٹن میں جرائم میں کمی آئی، واشنگٹن ڈی سی میں قتل کے واقعات 97 فیصد کم ہو گئے، امریکی شہری اب پہلے سے زیادہ محفوظ ہیں، ری پبلکن پارٹی کو مڈٹرم الیکشن جیتنا چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا سے جرائم پیشہ تارکین وطن کو واپس بھیجا جا رہا ہے، کولمبیا کے صدر پیٹرو کے ساتھ معاملات اچھے جا رہے ہیں، قطر کے ساتھ 42 ارب ڈالر کا دفاعی معاہدہ کیا ہے، بگرام ایئر بیسں کسی کو نہیں دیں گے، اسے واپس لیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار