مقبوضہ کشمیر میں عظیم الشان جلوس میلاد ولی العصر (عج)
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے کہا کہ آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای محض کسی ایک ملک کے سربراہ نہیں، بلکہ عصر حاضر میں امت مسلمہ کے اتحاد، جرأت اور فکری بیداری کی ایک توانا اور زندہ علامت ہیں۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
مقبوضہ کشمیر میں عظیم الشان جلوس میلاد ولی العصر (عج)
مقبوضہ کشمیر میں عظیم الشان جلوس میلاد ولی العصر (عج)
مقبوضہ کشمیر میں عظیم الشان جلوس میلاد ولی العصر (عج)
مقبوضہ کشمیر میں عظیم الشان جلوس میلاد ولی العصر (عج)
مقبوضہ کشمیر میں عظیم الشان جلوس میلاد ولی العصر (عج)
مقبوضہ کشمیر میں عظیم الشان جلوس میلاد ولی العصر (عج)
مقبوضہ کشمیر میں عظیم الشان جلوس میلاد ولی العصر (عج)
مقبوضہ کشمیر میں عظیم الشان جلوس میلاد ولی العصر (عج)
مقبوضہ کشمیر میں عظیم الشان جلوس میلاد ولی العصر (عج)
اسلام ٹائمز۔ قائم آل محمد حضرت امام مہدی (عج) کے یوم ولادت باسعادت کی مناسبت سے انجمن شرعی شیعیان کے زیر اہتمام حوزۂ علمیہ جامعہ باب العلم میرگنڈ بڈگام سے ایک عظیم الشان جلوس میلاد تنظیم کے سربراہ آغا سید حسن الموسوی الصفوی کی قیادت میں برآمد ہو کر مرکزی امام باڑہ بڈگام میں اختتام پذیر ہوا۔ جلوس میلاد میں تنظیم سے منسلک حوزات علمیہ اور شاخہائے مکاتب میں زیر تعلیم ہزاروں طلباء و طالبات کے علاوہ وابستگان ولایت و امامت کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جلوس سے قبل حوزہ علمیہ جامعہ باب العلم میرگنڈ بڈگام میں محفل میلاد منعقد ہوئی، جہاں متعدد علماء دین اور طلاب نے سلسلۂ امامت کی آخری کڑی حضرت حجتہ ابن الحسن (عج) کی غیبت کبریٰ اور فلسفۂ ظہور و انتظار پر مفصل روشنی ڈالی۔علماء دین نے عقیدۂ تصور مہدی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ حضرت ولی العصر (عج) کا ظہور اور عالمگیر انقلاب ایک ناقابل تردید قرآنی حقیقت ہے۔ امام کا پردۂ غیب میں چلے جانا عین مصلحت الٰہی ہے اور دنیا میں ظلم و باطل کے خاتمے اور عدل و انصاف کے قیام کا وعدۂ الٰہی ظہور امام مہدی (عج) سے وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ روئے زمین پر مستضعفین کی نصرت و سربلندی کے لئے انقلاب مہدیؑ کا برپا ہونا امت مسلمہ کے ایمان و یقین کا جزو لاینفک ہے۔ محفل سے اپنے صدارتی خطاب میں آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے انتہائی پرجوش اور ولولہ انگیز انداز میں کہا کہ آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای محض کسی ایک ملک کے سربراہ نہیں، بلکہ عصر حاضر میں امت مسلمہ کے اتحاد، جرأت اور فکری بیداری کی ایک توانا اور زندہ علامت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رہبر معظم کی زندگی کا ہر ورق اسلام کی سربلندی، حق کی حمایت اور مظلومین جہاں کے دفاع سے عبارت ہے۔
آغا سید حسن نے مزید کہا کہ آج کے اس پرآشوب دور میں، جب عالمی طاقتیں اپنے ناپاک مفادات کے لیے کمزور اقوام کو روند رہی ہیں، آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای وہ واحد جری قیادت ہیں جو استکبار عالمی کے سامنے سینہ سپر ہو کر کھڑی ہیں۔ ان کی غیر معمولی سیاسی بصیرت اور حکمت عملی نے مشرق وسطیٰ میں دشمن کے کئی خطرناک عزائم کو ناکامی سے دوچار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رہبر معظم کی قیادت کا نچوڑ بصیرت، شجاعت اور توکل علی اللہ ہے۔ وہ ایک ایسی فروزاں شمع ہیں جو امت مسلمہ کو تاریک راہوں میں حق، عزت اور آزادی کی منزل دکھا رہی ہے۔ آغا سید حسن نے زور دے کر کہا کہ رہبر معظم کی پیروی دراصل ان اسلامی اصولوں اور الٰہی قوانین کی پیروی ہے، جن کے ذریعے اسلام کو سربلندی اور مظلوم اقوام کو نجات نصیب ہوتی ہے۔
آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے اس موقع پر شب برات جیسی عظیم اور مقدس رات کے دوران جامع مسجد سرینگر کی تالہ بندی پر شدید برہمی اور سخت مذمت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے بلکہ ایک افسوسناک، غیر جمہوری اور ناقابل قبول قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ عبادت گاہوں کو بند کرنا، خصوصاً ایسی مقدس رات میں، مذہبی آزادیوں پر کھلا حملہ اور بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔