کراچی کنگز نے انگلینڈ کےعالمی شہرت یافتہ آل راؤنڈر کو ٹیم کا حصہ بنالیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
کراچی کنگز نے انگلینڈ کےعالمی شہرت یافتہ آل راؤنڈر کو ڈائرکٹ سائننگ کے تحت ٹیم کا حصہ بنالیا۔
عالمی کپ کرکٹ ٹورنامنٹ 2019 اور عالمی ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹورنامنٹ 2022 کے فاتح معین علی پی ایس ایل 11 میں کراچی کنگز کا حصہ بن گئے، کراچی کنگز نے معین علی کو 6 کروڑ 44 لاکھ روپے میں سائن کیا۔
مزید پڑھیںکراچی کنگز نے بھی پی ایس ایل فرنچائز معاہدے کی تجدید کردی
کراچی کنگز نے آئی پی ایل فرنچائز کی متنازع پوسٹ کا کرارا جواب دے دیا
ایچ بی ایل پی ایس ایل سیزن 11 میں کراچی کنگز کی نمائندگی کرنے والے معین علی پی ایس ایل2020 کا حصہ رہ چکے ہیں۔
واضح رہے کہ کراچی کنگز پہلے ہی اپنی چار ریٹننشنز کا اعلان کر چکا ہے،ان میں میں حسن علی (پلاٹینم)، عباس آفریدی (ڈائمنڈ)، خوشدل شاہ (گولڈ) اور سعد بیگ (ایمرجنگ) شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کراچی کنگز نے پی ایس ایل کا حصہ
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔