ریڈیو پاکستان حملہ کیس: نادرا کی رپورٹ میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سمیت دیگر ملزمان کی شناخت
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور:نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے ریڈیو پاکستان پشاور حملہ کیس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کی شناخت سے متعلق تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے۔
نادرا کے مطابق ملزمان کی شناخت فیشل ریکگنیشن سسٹم (FRS) کے ذریعے ممکن ہوئی۔ اس مقصد کے لیے نادرا کو ایک یو ایس بی موصول ہوئی، جس میں 5 فولڈرز موجود تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ فولڈرز وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، عامر چمکنی، عرفان سلیم، کامران اور تیمور جھگڑا کے نام سے منسوب تھے۔ ہر فولڈر میں متعلقہ شخص کے پروفائل پیکچرز شامل تھے، جس سے ملزمان کی ممکنہ شناخت میں آسانی ہوئی۔
نادرا نے بتایا کہ FRS سسٹم نے ممکنہ چہرے کی شناخت قومی شناختی کارڈ نمبر کے ساتھ میچ کرنے کی تصدیق کی، قانونی کارروائی کے لیے گراؤنڈ پر تصدیق لازمی ہے، یو ایس بی کے ساتھ بھیجی گئی خط واپس کر دی گئی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کیس میں مزید تکنیکی اور قانونی تصدیق کی ضرورت ہے۔
نادرا کی یہ رپورٹ ریڈیو پاکستان پشاور حملہ کیس میں اہم پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے اور اس سے تحقیقات میں مدد ملنے کی توقع ہے تاکہ واقعے کے ذمہ داران کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد صوبائی محکمہ صحت کی تشویش میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملتان کے ’نشتر اسپتال‘ میں اب تک منکی پاکس کے 4 مریضوں کی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اسپتال اور گردونواح میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
آئسولیشن وارڈ میں مریضوں کی تعداد اور آبائی علاقےنشتر اسپتال انتظامیہ کے مطابق حال ہی میں ایک اور مشتبہ مریض کو وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر خصوصی آئسولیشن وارڈ میں داخل کر لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ میں منکی پاکس کے کیسز میں اضافہ، 9 اموات کی تصدیق
اس نئے کیس کے بعد وارڈ میں زیرِ علاج اور کڑی نگرانی میں رکھے گئے مریضوں کی مجموعی تعداد 5 ہو گئی ہے۔ اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ جن مریضوں میں ’منکی پاکس‘ کی تصدیق ہوئی ہے ان کا تعلق جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع بالخصوص ملتان، مظفرگڑھ اور وہاڑی سے ہے۔
اسپتال انتظامیہ کے اقدامات اور ٹیسٹنگاسپتال کے وبائی امراض کے ماہرین اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ منکی پاکس کے تصدیق شدہ مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ان کی جلد صحت یابی ممکن ہو سکے۔
دوسری جانب، نئے آنے والے مشتبہ مریض کے خون اور زخموں کے نمونے (سیمپلز) حتمی جانچ اور تصدیق کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، جن کی رپورٹ اگلے چند روز میں موصول ہونے کا امکان ہے۔
محکمہ صحت کی نگرانی اور احتیاطی تدابیر کی اپیلمحکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے عوام الناس کو وبائی مرض سے بچنے کے لیے فوری طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔
مزید پڑھیں:کراچی میں منکی پاکس: بیوی کے بعد شوہر بھی لپیٹ میں آگیا
ترجمان محکمہ صحت کے مطابق خطے میں صورتحال کی مسلسل اور سخت نگرانی کی جا رہی ہے اور اس موذی بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضلعی سطح پر تمام ضروری اور حفاظتی اقدامات ہنگامی بنیادوں پر جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احتیاطی تدابیر اسپتال اقدامات ٹیسٹنگ جنوبی پنجاب خون زخموں لیبارٹری محکمہ صحت منکی پاکس نگرانی۔ نمونے