وزیراعظم، یوٹیلٹی اسٹورز ملازمین کیلئے خصوصی پیکیج منظور
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر یوٹیلٹی اسٹورز ملازمین کے لیے خصوصی پیکیج کی منظوری دیدی گئی۔
معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر کی زیر صدارت یوٹیلیٹی اسٹورز ملازمین کے ساتھ اجلاس ہوا، جس میں یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن اور نیشنل ورکرز یونین کے درمیان معاہدہ طے پا گیا۔
یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے تمام ملازمین فارغ، 25.
معاہدے کے تحت متاثرہ ملازمین کو کمپنسیٹری پیکیج کے چیکس کی تقسیم کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اہل ملازمین کو مرحلہ وار 40 فیصد پھر 30-30 فیصد ادائیگیاں کی جائینگی، 2024ء اور 2025ء کے سالانہ انکریمنٹس بھی پیکیج میں شامل ہیں۔
ہارون اختر نے کہا کہ حکومت مالی تعاون فراہم کرے گی تاکہ ملازمین کو ادائیگیاں یقینی ہوسکیں، حکومت مزدوروں کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔