8 فروری کے بعد بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کا آغاز ہوگا، طارق فضل چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جن متنازع معاملات پر بات کرتی ہے، وہ مل بیٹھ کر طے ہو سکتے ہیں اور حکومت ان امور پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی مسائل کا حل مذاکرات میں ہی مضمر ہے اور تصادم سے کسی کو فائدہ نہیں ہوتا۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ 8 فروری کے بعد بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا اور حکومت و پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان کشیدگی میں کمی کے آثار نمایاں ہیں۔ نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان برف پگھلنا شروع ہو چکی ہے اور معاملات بہتری کی جانب جا رہے ہیں۔ طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن کے ساتھ روابط بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں جا کر ان سے ملاقات کرینگے۔ ان کے مطابق اس ملاقات کے لیے مرکزی کردار رانا ثناء اللہ نے ادا کیا ہے، جسے سیاسی ماحول میں مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جن متنازع معاملات پر بات کرتی ہے، وہ مل بیٹھ کر طے ہو سکتے ہیں اور حکومت ان امور پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی مسائل کا حل مذاکرات میں ہی مضمر ہے اور تصادم سے کسی کو فائدہ نہیں ہوتا، ایک بار پھر واضح کیا کہ 8 فروری کے بعد بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ طارق فضل چوہدری نے کہا کہ احتجاج کرنا پی ٹی آئی کا آئینی حق ہے تاہم حکومت اس بات کی اجازت نہیں دے گی کہ احتجاج کی آڑ میں دکانیں اور اسکول بند ہوں یا شہریوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہو۔
وفاقی وزیر نے ڈی چوک کی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے احتجاج سے ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا، کوئی بھی حکومت انتشار اور خلفشارکی اجازت نہیں دے سکتی اور نہ ہی کسی کو یہ حق دیا جا سکتا ہے کہ وہ احتجاج کے نام پر شہریوں کے آئینی حقوق سلب کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: طارق فضل چوہدری وفاقی وزیر پی ٹی آئی پر بات ہے اور
پڑھیں:
دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
سٹی 42:سہیل آفریدی نے احتجاج کی کال دیتےہوئے کہا اگر اس مرتبہ بھی دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر سے پارلیمنٹرین 10جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیں گے۔
وزیر اعلی کے پی فیکٹری ناکہ سے واپس روانہ ہو گئے ۔ وزیر اعلی سہیل آفریدی کی فیکٹری ناکہ سے روانگی سے قبل میڈیا ٹاک میں کہا اگر اس مرتبہ بھی دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر سے پارلیمنٹرین 10جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیں گے۔2026-27کا بجٹ پیش کرنے جا رہے ہیں،مطالبہ کے کہ کے پی حکومت بانی کی ہے۔کے پی عوام نے بانی کو ووٹ دیا وہ انکو چاہتی ہے ۔کے پی عوام چاہے گی کہ بجٹ بانی کی خواہشات کے مطابق بنے ۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
بجٹ کے حوالے سے میری اور وزیر خزانہ سے ملاقات ہو تاکہ ان سے بجٹ کی اپروول لے سکیں۔ہم کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک پٹیشن دائر کرنے جا رہے ہیں،امید ہے اس دفعہ ہمیں ملاقات کی اجازت دی جائے گی،آج بھی بانی کی فیملی سے ملاقات نہیں ہونے دی گئی۔بانی نے کوئی جرم نہیں کیا،انکو اغوا کرکے ناحق قید رکھا گیا ہے۔
پنجاب کی جعلی حکومت،جیل انتظامیہ کی وجہ سے بانی کی آنکھ میں مسئلہ ہوا،عوام میں تشویش ہے کہ بانی کی ملاقات بند ہے،وہ اندر کیا کر رہے ہیں کہ تمام چیزیں روکی ہوئی ہیں۔یہ کیوں ملاقات نہیں کروا رہے،کے پی سے امتیازی سلوک کیوں کیا جا رہا ہے،میں نے ملاقات کا مطالبہ کرکےکوئی غلط ڈیمانڈ نہیں کی۔کے پی میں عوام نے بانی کو مینڈیٹ دیا یہ انکا حق ہے کہ بجٹ بانی کی مرضی کے مطابق ہو ۔ کے پی کا وزیر اعلی بانی تبدیل کر سکتے ہیں باقی کسی میں جرات نہیں،وہ ہلا بھی سکے ۔محسن نقوی سے ملاقات بیرسٹر گوہر کے کہنے پر ہوئی ۔افغانستان ہمارا برادر اسلامی ملک ہے،وہاں پر کیا انٹرسٹ ہو سکتا ہے اگر ہم ان سے لڑائی کریں ۔کسی کی خوشنودی کے لئے ان سے تعلقات خراب ہو رہے ہیں،
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
بجٹ میں بانی کی ہدایات کو شامل کیا گیا ہے،سوشل ویلفیئرتعلیم،صحت کو شامل کیا گیا ۔بانی نے کہا تھا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں پاکستان کو ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیئے
2026میں پاکستان انکے مشورے پر عمل کرتا ہے تو دنیا میں اسکی واہ واہ ہوتی ہے ۔ہر بندہ بولتا ہے کہ کرپشن ہو رہی ہے میں نے وزیراعلی کے دروازے کھلے رکھے ہیں کرپشن کے ثبوت لائیں۔