یوکرین : شدید سردی میں توانائی کی تنصیبات پر روسی حملے
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک) یوکرین نے کہا ہے کہ روس نے رواں سال اب تک یوکرین کے توانائی کے شعبے پر سب سے شدید حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں شدید سرد موسم میں لاکھوں افراد حرارت سے محروم ہو گئے ہیں۔ یوکرینی حکام کے مطابق رات گئے روسی میزائلوں اور ڈرون حملوں نے بجلی گھروں اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس سے ایک ہزار سے زائد عمارتوں میں ہیٹنگ سسٹم بند ہو گیا۔ ان حملوں کے وقت درجہ حرارت منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب تھا۔یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شدید سردی میں شہریوں کو نشانہ بنانا روس کی جانب سے سفارتی کوششوں کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس نے ایک بار پھر امریکا کی امن کوششوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ناٹو کے سربراہ مارک روٹے نے بھی حملوں کو امن مذاکرات کے لیے غیر سنجیدہ رویہ قرار دیا۔یوکرین کے توانائی کے وزیر کے مطابق روس نے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں ڈرونز استعمال کیے، جس سے تھرمل پاور پلانٹس اور رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ یوکرین کی سب سے بڑی نجی توانائی کمپنی ڈی ٹی ای کے نے اس حملے کو 2026 کا اب تک کا سب سے طاقتور حملہ قرار دیا ہے۔یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس نے 71 میزائل اور 450 حملہ آور ڈرون فائر کیے۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یوکرین اور روس کے نمائندوں کے درمیان ابو ظبی میں مذاکرات کا دوسرا دور متوقع ہے۔دوسری جانب روسی وزیر دفاع آندرے بیلاوسوف نے اعلان کیا ہے کہ وزارت دفاع کو 2026 ء کے دوران ملک کے عسکری صنعتی اداروں سے 3 لاکھ 10 ہزار سے زائد گاڑیاں اور تقریباً 2 کروڑ 10 لاکھ ہتھیاروں کی تعداد موصول ہو گی۔ نئے سال کے لیے فوج کو مسلح کرنے کے منصوبوں پر عمل درآمد سے متعلق ایک اجلاس کے دوران بیلاوسوف نے بدھ کے روز کہا کہ اس سال مسلح افواج کو 3 لاکھ 10 ہزار سے زائد فوجی گاڑیاں اور تقریباً 2 کروڑ 10 لاکھ ہتھیار فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق انہوں نے مزید بتایا کہ ہمیں جنوری میں 10 ہزار سے زائد گاڑیاں اور تقریباً 20 لاکھ گولہ بارود موصول ہوا ہے، جس میں بم اور میزائل شامل ہیں ۔ بیلاوسوف نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ 2027 ء تک ترسیل کے عمل کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے قومی عسکری صنعتی اداروں کے ساتھ ضروری معاہدوں پر دستخط کرنے کا کام جاری ہے۔ انہوں نے وزارت اور متعلقہ اداروں کو ان ہتھیاروں اور فوجی ساز و سامان کی باقاعدہ پیداوار اور فراہمی یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی ہے جن کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔یہ پیش رفت روس اور یوکرین کے درمیان تقریباً 4 سال سے جاری جنگ کے دوران سامنے آئی ہے۔ جبکہ کیف اور ماسکو کے درمیان جاری تنازع کو روکنے کے لیے امریکی کوششیں اب تک کسی معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔