data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260205-03-3
جیفری ایپسٹین کا نام اب کسی ایک فرد کی شناخت نہیں رہا بلکہ یہ نام جدید عالمی سیاست، طاقت، دولت، جنسی استحصال، عدالتی نظام کی کمزوری اور ذرائع ابلاغ کی اخلاقی آزمائش کی علامت بن چکا ہے۔ ’’ایپسٹین فائلز‘‘ کے نام سے منظر ِ عام پر آنے والی دستاویزات نے ایک بار پھر یہ سوال پوری شدت سے اُٹھا دیا ہے کہ کیا دنیا میں قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے؟ یا پھر طاقتور طبقات کے لیے انصاف ایک قابل ِ خرید شے بن چکا ہے۔ ایپسٹین کی زندگی، اس کے روابط اور اس کی پراسرار موت نے ایسے بے شمار پردے چاک کیے ہیں جن کے پیچھے عالمی اشرافیہ کے وہ چہرے چھپے تھے جو بظاہر انسانی حقوق، اخلاقیات اور جمہوری اقدار کے علمبردار سمجھے جاتے رہے ہیں۔ جیفری ایپسٹین ایک ایسا شخص تھا جو رسمی طور پر نہ کسی بڑی کارپوریشن کا سربراہ تھا اور نہ ہی کسی منتخب حکومت کا نمائندہ، مگر اس کے تعلقات دنیا کے طاقتور ترین سیاست دانوں، شہزادوں، ارب پتی سرمایہ کاروں، ماہرین ِ قانون، خفیہ اداروں اور میڈیا کے نمایاں چہروں تک پھیلے ہوئے تھے۔ ’’ایپسٹین فائلز‘‘ نے واضح کیا کہ یہ تعلقات محض سماجی میل جول تک محدود نہیں تھے بلکہ ان کے پس منظر میں ایک منظم استحصالی نیٹ ورک کارفرما تھا، جس میں کم عمر لڑکیوں کو بااثر افراد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ انکشافات سے یہ حقیقت بھی بے نقاب ہوئی کہ یہ سب کچھ کسی لاعلمی یا اتفاق کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ برسوں تک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت جاری رہا۔

ایپسٹین کے خلاف الزامات کوئی اچانک سامنے آنے والا واقعہ نہیں تھے۔ اس کے ماضی میں ایسے شواہد موجود تھے جو بروقت کارروائی کی صورت میں بے شمار زندگیاں بچا سکتے تھے، مگر حیران کن طور پر امریکی عدالتی نظام، تفتیشی ادارے اور سیاسی قیادت اس معاملے میں غیر معمولی نرمی اور خاموشی کا مظاہرہ کرتی رہی۔ ’’ایپسٹین فائلز‘‘ یہ بھی بتاتی ہیں کہ کس طرح مخصوص قانونی معاہدوں، خفیہ ڈیلز اور استثنیٰ کے ذریعے اسے قانون کے شکنجے سے بارہا نکالا گیا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انصاف کا تصور محض ایک نظری نعرہ بن کر رہ جاتا ہے اور طاقت کی حرکیات اصل فیصلے کرتی نظر آتی ہیں۔ ایپسٹین کی موت نے اس معاملے کو مزید پراسرار بنا دیا۔ ایک ایسے شخص کی، جو عالمی سطح پر حساس رازوں کا حامل تھا، انتہائی سیکورٹی جیل میں موت محض ایک فرد کی جان جانے کا واقعہ نہیں بلکہ نظام پر ایک کاری ضرب تھی۔ ’’ایپسٹین فائلز‘‘ کے تناظر میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا یہ واقعی خودکشی تھی یا پھر کسی بڑے اسکینڈل کو دفن کرنے کی ایک کوشش؟ اگر یہ خودکشی تھی تو نگرانی کے نظام، کیمروں اور جیل انتظامیہ کی ناکامی محض اتفاق نہیں لگتی، اور اگر یہ قتل تھا تو اس کے پیچھے موجود قوتیں انسانی قانون سے کہیں زیادہ طاقتور دکھائی دیتی ہیں۔ ان دستاویزات کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ان میں جن ناموں کا تذکرہ آیا، ان میں سے اکثر آج بھی بااثر عہدوں پر فائز ہیں یا عالمی پالیسی سازی میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ کون مجرم ثابت ہوا اور کون نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا سچ تک پہنچنے کا راستہ جان بوجھ کر مسدود کیا جا رہا ہے؟ ’’ایپسٹین فائلز‘‘ اس تاثر کو تقویت دیتی ہیں کہ جدید دنیا میں سچائی کا انحصار اخلاقی اصولوں پر نہیں بلکہ طاقت کے توازن پر ہوتا ہے۔

میڈیا کا کردار بھی اس پورے معاملے میں دو دھاری تلوار ثابت ہوا۔ ایک طرف کچھ صحافیوں اور تحقیقاتی اداروں نے غیر معمولی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حقائق عوام کے سامنے لانے کی کوشش کی، تو دوسری طرف بڑے میڈیا ہاؤسز کی خاموشی یا محتاط رپورٹنگ نے سوالات کو جنم دیا۔ ’’ایپسٹین فائلز‘‘ یہ واضح کرتی ہیں کہ اشتہارات، سیاسی وابستگیاں اور کارپوریٹ مفادات کس طرح خبر کے انتخاب اور اس کے انداز کو متاثر کرتے ہیں۔ یوں عوام کو سچ کا وہ مکمل چہرہ دکھائی ہی نہیں دیتا جو انہیں دکھایا جانا چاہیے۔ یہ معاملہ صرف امریکا یا مغربی دنیا تک محدود نہیں۔ ایپسٹین اسکینڈل نے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ طاقتور طبقات کے احتساب کا فقدان ایک عالمی مسئلہ ہے۔ کمزور ممالک میں تو انصاف پہلے ہی سوالیہ نشان ہے، مگر جب ترقی یافتہ جمہوریتوں میں بھی یہی صورت حال سامنے آئے تو یہ عالمی اخلاقی بحران کی علامت بن جاتا ہے۔ ’’ایپسٹین فائلز‘‘ دراصل اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ انسانی حقوق کے عالمی بیانیے اور عملی حقیقت کے درمیان کتنا گہرا تضاد موجود ہے۔

ان فائلز نے عوامی شعور میں ایک نیا سوال بھی پیدا کیا ہے کہ کیا قانون سازی اور ادارہ جاتی اصلاحات اس نظام کو درست کر سکتی ہیں، یا پھر مسئلہ اس سے کہیں گہرا ہے؟ جب طاقت، دولت اور خفیہ معلومات ایک ہی ہاتھ میں جمع ہو جائیں تو قوانین محض کاغذی رکاوٹ بن کر رہ جاتے ہیں۔ ایپسٹین کا کیس اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ انصاف صرف عدالتوں میں نہیں بلکہ طاقت کے مراکز میں طے ہوتا ہے۔ بالآخر ’’ایپسٹین فائلز‘‘ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ اگر اس جیسے معاملات پر اجتماعی خاموشی برقرار رہی تو آنے والے وقت میں استحصال کے یہ نیٹ ورک مزید مضبوط ہوں گے۔ یہ صرف ماضی کا اسکینڈل نہیں بلکہ مستقبل کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ایپسٹین کون تھا، بلکہ سوال یہ ہے کہ وہ نظام کون سا ہے جو ایپسٹین جیسے کردار پیدا کرتا، انہیں تحفظ دیتا اور پھر ضرورت پڑنے پر خاموشی سے منظر سے ہٹا دیتا ہے۔ جب تک اس سوال کا دیانت دارانہ جواب تلاش نہیں کیا جاتا، انصاف محض ایک خواب اور سچ ایک ادھورا بیانیہ ہی رہے گا۔

ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایپسٹین فائلز نہیں بلکہ ہے کہ کیا سوال یہ ہیں کہ کے لیے

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار