data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260205-03-3
جیفری ایپسٹین کا نام اب کسی ایک فرد کی شناخت نہیں رہا بلکہ یہ نام جدید عالمی سیاست، طاقت، دولت، جنسی استحصال، عدالتی نظام کی کمزوری اور ذرائع ابلاغ کی اخلاقی آزمائش کی علامت بن چکا ہے۔ ’’ایپسٹین فائلز‘‘ کے نام سے منظر ِ عام پر آنے والی دستاویزات نے ایک بار پھر یہ سوال پوری شدت سے اُٹھا دیا ہے کہ کیا دنیا میں قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے؟ یا پھر طاقتور طبقات کے لیے انصاف ایک قابل ِ خرید شے بن چکا ہے۔ ایپسٹین کی زندگی، اس کے روابط اور اس کی پراسرار موت نے ایسے بے شمار پردے چاک کیے ہیں جن کے پیچھے عالمی اشرافیہ کے وہ چہرے چھپے تھے جو بظاہر انسانی حقوق، اخلاقیات اور جمہوری اقدار کے علمبردار سمجھے جاتے رہے ہیں۔ جیفری ایپسٹین ایک ایسا شخص تھا جو رسمی طور پر نہ کسی بڑی کارپوریشن کا سربراہ تھا اور نہ ہی کسی منتخب حکومت کا نمائندہ، مگر اس کے تعلقات دنیا کے طاقتور ترین سیاست دانوں، شہزادوں، ارب پتی سرمایہ کاروں، ماہرین ِ قانون، خفیہ اداروں اور میڈیا کے نمایاں چہروں تک پھیلے ہوئے تھے۔ ’’ایپسٹین فائلز‘‘ نے واضح کیا کہ یہ تعلقات محض سماجی میل جول تک محدود نہیں تھے بلکہ ان کے پس منظر میں ایک منظم استحصالی نیٹ ورک کارفرما تھا، جس میں کم عمر لڑکیوں کو بااثر افراد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ انکشافات سے یہ حقیقت بھی بے نقاب ہوئی کہ یہ سب کچھ کسی لاعلمی یا اتفاق کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ برسوں تک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت جاری رہا۔

ایپسٹین کے خلاف الزامات کوئی اچانک سامنے آنے والا واقعہ نہیں تھے۔ اس کے ماضی میں ایسے شواہد موجود تھے جو بروقت کارروائی کی صورت میں بے شمار زندگیاں بچا سکتے تھے، مگر حیران کن طور پر امریکی عدالتی نظام، تفتیشی ادارے اور سیاسی قیادت اس معاملے میں غیر معمولی نرمی اور خاموشی کا مظاہرہ کرتی رہی۔ ’’ایپسٹین فائلز‘‘ یہ بھی بتاتی ہیں کہ کس طرح مخصوص قانونی معاہدوں، خفیہ ڈیلز اور استثنیٰ کے ذریعے اسے قانون کے شکنجے سے بارہا نکالا گیا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انصاف کا تصور محض ایک نظری نعرہ بن کر رہ جاتا ہے اور طاقت کی حرکیات اصل فیصلے کرتی نظر آتی ہیں۔ ایپسٹین کی موت نے اس معاملے کو مزید پراسرار بنا دیا۔ ایک ایسے شخص کی، جو عالمی سطح پر حساس رازوں کا حامل تھا، انتہائی سیکورٹی جیل میں موت محض ایک فرد کی جان جانے کا واقعہ نہیں بلکہ نظام پر ایک کاری ضرب تھی۔ ’’ایپسٹین فائلز‘‘ کے تناظر میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا یہ واقعی خودکشی تھی یا پھر کسی بڑے اسکینڈل کو دفن کرنے کی ایک کوشش؟ اگر یہ خودکشی تھی تو نگرانی کے نظام، کیمروں اور جیل انتظامیہ کی ناکامی محض اتفاق نہیں لگتی، اور اگر یہ قتل تھا تو اس کے پیچھے موجود قوتیں انسانی قانون سے کہیں زیادہ طاقتور دکھائی دیتی ہیں۔ ان دستاویزات کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ان میں جن ناموں کا تذکرہ آیا، ان میں سے اکثر آج بھی بااثر عہدوں پر فائز ہیں یا عالمی پالیسی سازی میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ کون مجرم ثابت ہوا اور کون نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا سچ تک پہنچنے کا راستہ جان بوجھ کر مسدود کیا جا رہا ہے؟ ’’ایپسٹین فائلز‘‘ اس تاثر کو تقویت دیتی ہیں کہ جدید دنیا میں سچائی کا انحصار اخلاقی اصولوں پر نہیں بلکہ طاقت کے توازن پر ہوتا ہے۔

میڈیا کا کردار بھی اس پورے معاملے میں دو دھاری تلوار ثابت ہوا۔ ایک طرف کچھ صحافیوں اور تحقیقاتی اداروں نے غیر معمولی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حقائق عوام کے سامنے لانے کی کوشش کی، تو دوسری طرف بڑے میڈیا ہاؤسز کی خاموشی یا محتاط رپورٹنگ نے سوالات کو جنم دیا۔ ’’ایپسٹین فائلز‘‘ یہ واضح کرتی ہیں کہ اشتہارات، سیاسی وابستگیاں اور کارپوریٹ مفادات کس طرح خبر کے انتخاب اور اس کے انداز کو متاثر کرتے ہیں۔ یوں عوام کو سچ کا وہ مکمل چہرہ دکھائی ہی نہیں دیتا جو انہیں دکھایا جانا چاہیے۔ یہ معاملہ صرف امریکا یا مغربی دنیا تک محدود نہیں۔ ایپسٹین اسکینڈل نے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ طاقتور طبقات کے احتساب کا فقدان ایک عالمی مسئلہ ہے۔ کمزور ممالک میں تو انصاف پہلے ہی سوالیہ نشان ہے، مگر جب ترقی یافتہ جمہوریتوں میں بھی یہی صورت حال سامنے آئے تو یہ عالمی اخلاقی بحران کی علامت بن جاتا ہے۔ ’’ایپسٹین فائلز‘‘ دراصل اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ انسانی حقوق کے عالمی بیانیے اور عملی حقیقت کے درمیان کتنا گہرا تضاد موجود ہے۔

ان فائلز نے عوامی شعور میں ایک نیا سوال بھی پیدا کیا ہے کہ کیا قانون سازی اور ادارہ جاتی اصلاحات اس نظام کو درست کر سکتی ہیں، یا پھر مسئلہ اس سے کہیں گہرا ہے؟ جب طاقت، دولت اور خفیہ معلومات ایک ہی ہاتھ میں جمع ہو جائیں تو قوانین محض کاغذی رکاوٹ بن کر رہ جاتے ہیں۔ ایپسٹین کا کیس اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ انصاف صرف عدالتوں میں نہیں بلکہ طاقت کے مراکز میں طے ہوتا ہے۔ بالآخر ’’ایپسٹین فائلز‘‘ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ اگر اس جیسے معاملات پر اجتماعی خاموشی برقرار رہی تو آنے والے وقت میں استحصال کے یہ نیٹ ورک مزید مضبوط ہوں گے۔ یہ صرف ماضی کا اسکینڈل نہیں بلکہ مستقبل کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ایپسٹین کون تھا، بلکہ سوال یہ ہے کہ وہ نظام کون سا ہے جو ایپسٹین جیسے کردار پیدا کرتا، انہیں تحفظ دیتا اور پھر ضرورت پڑنے پر خاموشی سے منظر سے ہٹا دیتا ہے۔ جب تک اس سوال کا دیانت دارانہ جواب تلاش نہیں کیا جاتا، انصاف محض ایک خواب اور سچ ایک ادھورا بیانیہ ہی رہے گا۔

ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایپسٹین فائلز نہیں بلکہ ہے کہ کیا سوال یہ ہیں کہ کے لیے

پڑھیں:

ناتمام (آخری قسط)

ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘

’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘

مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔

 ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘

پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"

پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔

بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘

کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔

 پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔

الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔

کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔

’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘

ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار