Jasarat News:
2026-06-02@22:12:26 GMT

مغرب کی گندی تہذیب کے بدبودار کردار

اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کیا واقعی یہ وہی مغرب ہے جسے ہم ترقی، تہذیب اور انسانی حقوق کا علمبردار سمجھتے ہیں؟ کیا یہ وہی مہذب دنیا ہے جو ہمیں صبح و شام عورتوں کے حقوق، بچوں کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کا بھاشن دیتی ہے؟ گزشتہ چند دنوں سے جیفری ایپسٹین (Jeffrey Epstein) کی خفیہ فائلوں نے جو طوفان برپا کیا ہے، اس نے مغرب کے اس چمکتے ہوئے بت کے اندر چھپے تعفن کو پوری دنیا کے سامنے ننگا کر دیا ہے۔ یہ صرف کاغذ کے چند ٹکڑے نہیں ہیں، یہ اس جدید اور نام نہاد لبرل نظام کا وہ بھیانک نوحہ ہے جس پر انسانیت شرما گئی ہے۔

قصہ کیا ہے؟ یہ ایپسٹین فائلز دراصل عدالتی دستاویزات کا وہ پلندہ ہیں جو امریکی فنانسر اور جنسی درندے جیفری ایپسٹین اور اس کی ساتھی گلین میکسویل کے گرد گھومتی ہیں۔ یہ وہ نام ہیں جنہوں نے ایک جزیرے لٹل سینٹ جیمز کو اپنی عیاشی کا اڈہ بنایا ہوا تھا۔ لیکن ٹھیریے! یہ کہانی صرف ایک امیر شخص کی عیاشی کی نہیں ہے۔ ان فائلوں میں جن لوگوں کے نام سامنے آ رہے ہیں، وہ کوئی عام لوگ نہیں ہیں۔ یہ دنیا کے حکمران ہیں، یہ سابق امریکی صدور ہیں، یہ برطانیہ کے شہزادے ہیں، یہ ہالی وڈ کے سپر اسٹارز ہیں اور وہ سائنسدان ہیں جنہیں دنیا عقل کا دیوتا مانتی ہے۔ بل کلنٹن ہو یا ڈونلڈ ٹرمپ کا ذکر، شہزادہ اینڈریو ہو یا اسٹیفن ہاکنگ کا حوالہ، ان دستاویزات نے ثابت کیا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والے یہ لوگ رات کے اندھیروں میں کس قدر گھناؤنے کھیل کھیلتے ہیں۔ ایپسٹین فائلز دراصل طاقت، دولت اور جنسی جرائم کے اس گٹھ جوڑ کی دستاویزی جھلک ہیں جسے برسوں سے پردوں میں رکھا گیا۔ جیفری ایپسٹین کوئی معمولی مجرم نہ تھا۔ وہ ایک نظام تھا۔ ایسا نظام جس میں طاقت ور نام، خفیہ میل جول، نجی پروازیں، بند دروازے، اور خاموشی کے سودے شامل تھے۔ آج جب عدالتوں اور تفتیشی عمل کے ذریعے کچھ فائلیں، رابطہ فہرستیں اور دستاویزات سامنے آئیں تو سوال صرف یہ نہیں کہ کن کے نام آئے، اصل سوال یہ ہے کہ برسوں تک یہ سب کیسے چلتا رہا۔

اب ذرا اس تصویر کا دوسرا رُخ دیکھیے اور مغربی منافقت کو داد دیجیے۔ یہ وہی عالمی لیڈرز ہیں جو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر تیسری دنیا کے ممالک کو ڈانٹ پلاتے ہیں کہ اٹھارہ سال سے کم عمر کی شادی جرم ہے۔ یہ ہمارے خاندانی نظام پر قدغن لگاتے ہیں، یہ مسلم معاشروں میں جلد شادی کو بچوں پر ظلم قرار دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں اگر شرعی تقاضوں کے مطابق نکاح ہو جائے تو ان کے این جی او مافیا کا طوفان کھڑا ہو جاتا ہے۔ مگر حقیقت کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ انہی لوگوں نے اپنی ہوس کی تسکین کے لیے اٹھارہ سال تو دور کی بات، نابالغ بچیوں کو ایک جزیرے پر قید کر کے ان کے ساتھ وہ حیوانی سلوک کیا جس کا تصور بھی ایک شریف انسان کے لیے محال ہے۔ یہ قانون کا نفاذ صرف غریب اور کمزور قوموں کے لیے ہے؟ کیا قانون صرف یہ ہے کہ نکاح کے بندھن میں بندھ کر ذمے داری اٹھانا جرم ہے، لیکن ایک جزیرے پر جا کر درجنوں نابالغ بچیوں کا جنسی استحصال کرنا ایلیٹ کلاس کی تفریح ہے؟ یہ دوہرا معیار نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ وہ تضاد ہے جو چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ مغرب کا اخلاقی نظام کھوکھلا ہو چکا ہے۔ ان کے سوٹ اور ٹائیوں کے پیچھے چھپے بھیڑیے اب بے نقاب ہو چکے ہیں۔

بات صرف جنسی بے راہ روی تک محدود نہیں ہے۔ دانشوروں کا ایک بڑا طبقہ اسے محض عیاشی نہیں بلکہ عالمی بلیک میلنگ کا ایک بہت بڑا جال (Honey Trap) قرار دے رہا ہے۔ ذرا سوچیے! دنیا کے طاقتور ترین لوگ ایک ایسی جگہ جاتے ہیں جہاں خفیہ کیمرے نصب ہیں۔ وہاں ان کی نازیبا حرکات ریکارڈ کی جاتی ہیں۔ پھر یہ ویڈیوز اور تصویریں ان لیڈروں کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ دنیا کے بڑے بڑے فیصلے، جنگیں اور پالیسیاں شاید انہی بلیک میلنگ ٹپس کے زیر اثر بنتی رہی ہوں؟ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کا نام بھی اس نیٹ ورک کے ساتھ لیا جا رہا ہے۔ یہ ایک ایسا مکڑی کا جالا ہے جس میں پوری دنیا کی اشرافیہ پھنسی ہوئی ہے۔ یہ لوگ عوام کے حکمران نہیں، بلکہ اپنی کمزوریوں کے غلام ہیں۔

کیا اب بھی ہمارے دیسی لبرلز مغرب کی اس روشن خیالی پر فخر کریں گے؟ کیا اب بھی ہم ان کی تہذیب کو اپنے لیے مشعل راہ سمجھیں گے؟ ایپسٹین کی کہانی نے ثابت کر دیا ہے کہ جہاں خدا کا خوف اور آخرت کی جوابدہی کا احساس نہ ہو، وہاں انسان کتنا ہی پڑھ لکھ جائے، کتنا ہی امیر ہو جائے، وہ اندر سے ایک درندہ ہی رہتا ہے۔ پاکستانی قوم کے لیے اس میں ایک بڑا سبق ہے۔ ہمیں احساس کمتری سے نکلنا ہوگا۔ ہمارا خاندانی نظام، ہماری شرم و حیا اور ہماری دینی اقدار وہ ڈھال ہیں جو ہمیں اس گندگی سے بچائے ہوئے ہیں۔ مغرب کی چمک دمک کے پیچھے چھپی اس غلاظت کو دیکھ کر کانوں کو ہاتھ لگائیے اور شکر ادا کیجیے کہ ہم اس تہذیب کا حصہ نہیں جہاں معصومیت کا سودا اقتدار کے ایوانوں میں ہوتا ہے۔ یہ لیڈر دنیا کو کیا امن دیں گے جو اپنی ہوس کے ہاتھوں خود امن کھو بیٹھے ہیں؟ تاریخ گواہ ہے کہ جب قوموں کے خواص اس درجہ اخلاقی پستی کا شکار ہو جائیں، تو پھر قدرت کا کوڑا برستے دیر نہیں لگتی۔ یہ تماشائے عبرت ہے، اگر کوئی سمجھنے والا ہو۔

عارف واجد سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: دنیا کے کیا ہے کے لیے

پڑھیں:

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔

https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247

قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟