Jasarat News:
2026-07-24@02:36:26 GMT

مغرب کی گندی تہذیب کے بدبودار کردار

اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کیا واقعی یہ وہی مغرب ہے جسے ہم ترقی، تہذیب اور انسانی حقوق کا علمبردار سمجھتے ہیں؟ کیا یہ وہی مہذب دنیا ہے جو ہمیں صبح و شام عورتوں کے حقوق، بچوں کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کا بھاشن دیتی ہے؟ گزشتہ چند دنوں سے جیفری ایپسٹین (Jeffrey Epstein) کی خفیہ فائلوں نے جو طوفان برپا کیا ہے، اس نے مغرب کے اس چمکتے ہوئے بت کے اندر چھپے تعفن کو پوری دنیا کے سامنے ننگا کر دیا ہے۔ یہ صرف کاغذ کے چند ٹکڑے نہیں ہیں، یہ اس جدید اور نام نہاد لبرل نظام کا وہ بھیانک نوحہ ہے جس پر انسانیت شرما گئی ہے۔

قصہ کیا ہے؟ یہ ایپسٹین فائلز دراصل عدالتی دستاویزات کا وہ پلندہ ہیں جو امریکی فنانسر اور جنسی درندے جیفری ایپسٹین اور اس کی ساتھی گلین میکسویل کے گرد گھومتی ہیں۔ یہ وہ نام ہیں جنہوں نے ایک جزیرے لٹل سینٹ جیمز کو اپنی عیاشی کا اڈہ بنایا ہوا تھا۔ لیکن ٹھیریے! یہ کہانی صرف ایک امیر شخص کی عیاشی کی نہیں ہے۔ ان فائلوں میں جن لوگوں کے نام سامنے آ رہے ہیں، وہ کوئی عام لوگ نہیں ہیں۔ یہ دنیا کے حکمران ہیں، یہ سابق امریکی صدور ہیں، یہ برطانیہ کے شہزادے ہیں، یہ ہالی وڈ کے سپر اسٹارز ہیں اور وہ سائنسدان ہیں جنہیں دنیا عقل کا دیوتا مانتی ہے۔ بل کلنٹن ہو یا ڈونلڈ ٹرمپ کا ذکر، شہزادہ اینڈریو ہو یا اسٹیفن ہاکنگ کا حوالہ، ان دستاویزات نے ثابت کیا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والے یہ لوگ رات کے اندھیروں میں کس قدر گھناؤنے کھیل کھیلتے ہیں۔ ایپسٹین فائلز دراصل طاقت، دولت اور جنسی جرائم کے اس گٹھ جوڑ کی دستاویزی جھلک ہیں جسے برسوں سے پردوں میں رکھا گیا۔ جیفری ایپسٹین کوئی معمولی مجرم نہ تھا۔ وہ ایک نظام تھا۔ ایسا نظام جس میں طاقت ور نام، خفیہ میل جول، نجی پروازیں، بند دروازے، اور خاموشی کے سودے شامل تھے۔ آج جب عدالتوں اور تفتیشی عمل کے ذریعے کچھ فائلیں، رابطہ فہرستیں اور دستاویزات سامنے آئیں تو سوال صرف یہ نہیں کہ کن کے نام آئے، اصل سوال یہ ہے کہ برسوں تک یہ سب کیسے چلتا رہا۔

اب ذرا اس تصویر کا دوسرا رُخ دیکھیے اور مغربی منافقت کو داد دیجیے۔ یہ وہی عالمی لیڈرز ہیں جو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر تیسری دنیا کے ممالک کو ڈانٹ پلاتے ہیں کہ اٹھارہ سال سے کم عمر کی شادی جرم ہے۔ یہ ہمارے خاندانی نظام پر قدغن لگاتے ہیں، یہ مسلم معاشروں میں جلد شادی کو بچوں پر ظلم قرار دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں اگر شرعی تقاضوں کے مطابق نکاح ہو جائے تو ان کے این جی او مافیا کا طوفان کھڑا ہو جاتا ہے۔ مگر حقیقت کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ انہی لوگوں نے اپنی ہوس کی تسکین کے لیے اٹھارہ سال تو دور کی بات، نابالغ بچیوں کو ایک جزیرے پر قید کر کے ان کے ساتھ وہ حیوانی سلوک کیا جس کا تصور بھی ایک شریف انسان کے لیے محال ہے۔ یہ قانون کا نفاذ صرف غریب اور کمزور قوموں کے لیے ہے؟ کیا قانون صرف یہ ہے کہ نکاح کے بندھن میں بندھ کر ذمے داری اٹھانا جرم ہے، لیکن ایک جزیرے پر جا کر درجنوں نابالغ بچیوں کا جنسی استحصال کرنا ایلیٹ کلاس کی تفریح ہے؟ یہ دوہرا معیار نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ وہ تضاد ہے جو چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ مغرب کا اخلاقی نظام کھوکھلا ہو چکا ہے۔ ان کے سوٹ اور ٹائیوں کے پیچھے چھپے بھیڑیے اب بے نقاب ہو چکے ہیں۔

بات صرف جنسی بے راہ روی تک محدود نہیں ہے۔ دانشوروں کا ایک بڑا طبقہ اسے محض عیاشی نہیں بلکہ عالمی بلیک میلنگ کا ایک بہت بڑا جال (Honey Trap) قرار دے رہا ہے۔ ذرا سوچیے! دنیا کے طاقتور ترین لوگ ایک ایسی جگہ جاتے ہیں جہاں خفیہ کیمرے نصب ہیں۔ وہاں ان کی نازیبا حرکات ریکارڈ کی جاتی ہیں۔ پھر یہ ویڈیوز اور تصویریں ان لیڈروں کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ دنیا کے بڑے بڑے فیصلے، جنگیں اور پالیسیاں شاید انہی بلیک میلنگ ٹپس کے زیر اثر بنتی رہی ہوں؟ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کا نام بھی اس نیٹ ورک کے ساتھ لیا جا رہا ہے۔ یہ ایک ایسا مکڑی کا جالا ہے جس میں پوری دنیا کی اشرافیہ پھنسی ہوئی ہے۔ یہ لوگ عوام کے حکمران نہیں، بلکہ اپنی کمزوریوں کے غلام ہیں۔

کیا اب بھی ہمارے دیسی لبرلز مغرب کی اس روشن خیالی پر فخر کریں گے؟ کیا اب بھی ہم ان کی تہذیب کو اپنے لیے مشعل راہ سمجھیں گے؟ ایپسٹین کی کہانی نے ثابت کر دیا ہے کہ جہاں خدا کا خوف اور آخرت کی جوابدہی کا احساس نہ ہو، وہاں انسان کتنا ہی پڑھ لکھ جائے، کتنا ہی امیر ہو جائے، وہ اندر سے ایک درندہ ہی رہتا ہے۔ پاکستانی قوم کے لیے اس میں ایک بڑا سبق ہے۔ ہمیں احساس کمتری سے نکلنا ہوگا۔ ہمارا خاندانی نظام، ہماری شرم و حیا اور ہماری دینی اقدار وہ ڈھال ہیں جو ہمیں اس گندگی سے بچائے ہوئے ہیں۔ مغرب کی چمک دمک کے پیچھے چھپی اس غلاظت کو دیکھ کر کانوں کو ہاتھ لگائیے اور شکر ادا کیجیے کہ ہم اس تہذیب کا حصہ نہیں جہاں معصومیت کا سودا اقتدار کے ایوانوں میں ہوتا ہے۔ یہ لیڈر دنیا کو کیا امن دیں گے جو اپنی ہوس کے ہاتھوں خود امن کھو بیٹھے ہیں؟ تاریخ گواہ ہے کہ جب قوموں کے خواص اس درجہ اخلاقی پستی کا شکار ہو جائیں، تو پھر قدرت کا کوڑا برستے دیر نہیں لگتی۔ یہ تماشائے عبرت ہے، اگر کوئی سمجھنے والا ہو۔

عارف واجد سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: دنیا کے کیا ہے کے لیے

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف