Jasarat News:
2026-06-02@22:25:45 GMT

کمزور پارلیمنٹ کا انجام

اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

عوام کو موجودہ پارلیمنٹ میں دلچسپی ہے یا نہیں لیکن گزشتہ دو برسوں میں مَیں نے ایک چیز دیکھی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف‘ ان کی کابینہ اور ایم این ایز کو اس میں بالکل دلچسپی نہیں۔ بلوچستان میں دہشت گردی کا اتنا بڑا واقعہ ہو جاتا ہے اور اگلے دن ہونے والے پارلیمنٹ کے اجلاس سے وزیراعظم اور وزیر داخلہ غائب ہوتے ہیں۔ کیا ان کے نزدیک پارلیمنٹ اتنی بھی اہم نہیں کہ وہاں جا کر وہ عوام کے نمائندوں کو بتا سکیں کہ یہ سب کیسے ہوا اور کس کی ناکامی تھی‘ اور کیا کوئی ذمے داری قبول کرنے کو تیار ہے؟ جس ملک میں اتنا بڑا واقعہ ہو جائے وہاں کا وزیراعظم اور وزیر داخلہ عوام کو پارلیمنٹ میں نظر ہی نہ آئیں تو اس کا مطلب بڑا واضح ہے کہ وہ خود کو پارلیمنٹ کے آگے جوابدہ نہیں سمجھتے۔ مجھے اس بات کا بھی پورا یقین ہے کہ ایوانِ زیریں کے 336 اراکین یا ایوانِ بالا کے سو کے قریب سینیٹرز میں سے کوئی ایک بھی یہ پوچھنے کی جرأت نہیں کرے گا کہ وزیراعظم یا وزیر داخلہ اس موقع پر کہاں تھے۔ وہ ہمیں جواب دیں کہ یہ سب کیسے اور کیوں ہوا؟ اگرچہ محمود خان اچکزئی نے اپنی تقریر میں اس حوالے سے بات تو کی لیکن انہوں نے بھی پوری کوشش کی کہ ان کے ایک حرف سے بھی وزیراعظم یا وزیر داخلہ کو یہ نہ لگے کہ وہ ان کی کارکردگی پر کوئی سوال اٹھا رہے ہیں یا یہ کہ وہ دونوں اپنا کام کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ شہباز بھائی اور خواجہ آصف بھائی کی گردان اچھی بات ہے کہ اس تلخ ماحول میں نرمی کی ضرورت ہے لیکن جب معاملہ اتنا خوفناک ہو تو بھائی کہہ کر آپ سخت سوال بھی پوچھ سکتے ہیں جو ان کی تقریر میں نہیں تھے۔

شہباز شریف جب نیب کی قید میں تھے تو ہر اجلاس سے پہلے ان کی پارٹی شور ڈالتی تھی کہ انہیں پروڈکشن آرڈر پر ایوان میں لائیں اور اسد قیصر ان کا پروڈکشن آرڈر جاری کر دیتے تھے۔ شہباز شریف تب اجلاس سے گھنٹہ پہلے ہال میں موجود ہوتے تھے اور اجلاس ختم ہونے تک مسلسل اپنی مظلومیت کی کہانیاں سناتے رہتے تھے۔ اْس وقت ان کی ایوان میں حاضری 80 فی صد تھی‘ جو اَب پانچ فی صد سے بھی کم بتائی جا رہی ہے۔ میں 2002ء سے پارلیمنٹ کی بِیٹ کر رہا ہوں‘ اس دوران کئی حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی دیکھی ہیں۔ پارلیمنٹ کے سیکڑوں اجلاس دیکھے‘ لاتعداد تقریریں سنیں‘ نئے وزیراعظم آتے اور گھر جاتے دیکھے۔ میں درجن بھر حکمرانوں کے عروج و زوال کا عینی شاہد ہوں۔ کئی اعلیٰ پائے کے مقرروں کو مکمل خاموشی میں سنا گیا‘ لیکن دھیرے دھیرے وقت سب کو روند کر نکل گیا۔ البتہ ایک بات سب میں مشترک دیکھی کہ سبھی اْسی وقت پارلیمنٹ میں آتے جب انہوں نے وزیراعظم بننا ہوتا۔ وزیراعظم بننے سے پہلے تک سب ہر روز پارلیمنٹ میں نظر آتے اور گھنٹوں تقریریں کرتے۔ ملک و قوم کی محبت میں آنسو بہا کر وہ بتاتے کہ ان سے زیادہ مخلص کوئی نہیں۔ ان کی تقریریں سن کر عام پاکستانی کی آنکھیں بھر آتیں لیکن جونہی انہیں موقع ملا اور وہ مقتدرہ کے کندھوں پر سوار ہو کر وزیراعظم بنے ان کا پارلیمنٹ سے تعلق ایک کچے دھاگے جتنا مضبوط بھی نہ رہا۔

میرا خیال ہے کہ یوسف رضا گیلانی شاید پہلے اور آخری وزیراعظم تھے جنہوں نے اپنے دور میں پارلیمنٹ اور اراکین کو اہمیت دی۔ وہ تقریباً ہر اجلاس میں شریک ہوتے جس کی وجہ سے وزرا اور ایم این ایز بھی موجود رہتے۔ گیلانی صاحب سے آپ سو اختلافات کریں لیکن وہ پارلیمنٹ کے تقریباً ہر اجلاس میں شریک ہوتے اور ہر ایم این اے‘ چاہے وہ حکومتی جماعت کا تھا یا اپوزیشن کا‘ سب کو عزت دیتے تھے۔ وہ سبھی کو اپنی نشست سے اٹھ کر ملتے تھے اور یہ سب کچھ ہم پریس گیلری سے بیٹھ کر دیکھ رہے ہوتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جب عمران خان وزیراعظم تھے تو ان کے وزیر خزانہ حفیظ شیخ یوسف رضا گیلانی سے سینیٹ کا الیکشن ہار گئے۔ یہ شاید پہلی دفعہ ہوا تھا کہ وفاقی حکومت اسلام آباد کی نشست سے اپنا سینیٹر منتخب نہیں کرا سکی تھی۔ یوسف رضا گیلانی کو جہاں اپوزیشن اتحاد کے ووٹ ملے تھے وہیں گیلانی صاحب کی شخصیت اور حسنِ سلوک کی وجہ سے انہیں حکومتی اراکین کے ووٹ بھی ملے تھے۔ یہ سب بتانے کا مقصد یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں آپ کی موجودگی اور ارکان سے حسن سلوک کا نتیجہ برسوں بعد بھی آپ کے حق میں نکلتا ہے‘ ورنہ یوسف رضا گیلانی تو 2012ء میں وزیراعظم ہائوس سے نکلے اور نااہل ہو گئے تھے۔

سیاست بڑی بے رحم چیز ہے‘ اس میں آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل جیسا معاملہ ہوتا ہے۔ لیکن ہم نے دیکھا کہ جس پارلیمنٹ میں واپسی کے لیے میاں نواز شریف نے 14 برس انتظار کیا اور جدہ سے لندن تک مشکلیں دیکھیں‘ انہوں نے وزیراعظم بننے کے بعد اس پارلیمنٹ کا رْخ تک نہیں کیا۔ جہاز پکڑا اور دنیا کی سیر کو نکل گئے۔ وہ اپنے دور میں چار سو دن ملک سے باہر رہے۔ آٹھ آٹھ ماہ مسلسل وہ پارلیمنٹ نہیں آئے۔ ایک سال تک وہ سینیٹ نہیں گئے۔ پارلیمنٹ کو سنجیدہ نہ لینے کا رواج میاں نواز شریف نے شروع کیا تھا جو عمران خان اپنے دور میں عروج پر لے گئے۔ نواز شریف کو تیسری بار وزیراعظم بننے میں چودہ برس لگے تھے تو عمران خان کو بائیس برس لگے۔ عمران خان بھی پارلیمنٹ میں سے وزیراعظم بننے کے لیے ووٹ لینے آئے اور پھر پانچ ماہ وہ بھی ہائوس میں نہیں ملے۔ انہیں کہا گیا کہ ایم این ایز کو زیادہ منہ نہیں لگانا۔ وہ اپنی پارٹی اور اتحادی جماعتوں کے اراکین سے بھی رعونت سے ملتے تھے۔ مجال ہے کہ ان کے ساڑھے تین سالہ دور میں ہم نے پریس گیلری سے انہیں کسی کو اپنی سیٹ سے اٹھ کر ملتے دیکھا ہو۔ انہیں اعتماد تھا کہ جنرل فیض حمید کا ایک کرنل ان سب کو ووٹ والے دن پیش کر دے گا۔ عمران خان کو اس وقت ہائوس سے زیادہ جنرل باجوہ اور جنرل فیض پر اعتماد تھا۔ یہ اعتماد ہر وزیراعظم اپنے جنرلز پر کرتا آیا ہے۔ بھٹو صاحب نے جنرل ضیا پر اعتماد کیا تھا اور انہیں ساتویں نمبر سے اٹھا کر چیف بنادیا۔ بقول سابق پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی یہی اعتماد نواز شریف کو پرویز مشرف پر دلایا گیا کہ اپنا بندہ ہے اور انہوں نے تیسرے نمبر سے جنرل پرویز مشرف کو اٹھا کر چیف بنا دیا۔ سبھی وزائے اعظم کو لگتا تھا کہ ان کے لگائے ہوئے جنرلز کا کام ان کی نالائقیوں‘ نااہلیوں اور بیکار سیاسی اپروچ کو تحفظ فراہم کرنا ہے اور وہ اب کسی کو بھی جوابدہ نہیں‘ ماسوائے مقتدرہ کے۔ اگر آپ کو یاد ہو تو عمران خان کہتے تھے کہ آئی ایس آئی کو علم ہے میں کرپٹ نہیں ہوں۔ مطلب وہ وزیراعظم ہو کر خود کو آئی ایس آئی کے سامنے جوابدہ سمجھتے تھے‘ پارلیمنٹ یا عوام کے سامنے نہیں۔ وزیراعظم کو کسی ایجنسی سے کریکٹر سرٹیفکیٹ کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب وہ پارلیمنٹ اور عوام سے دور ہوتا ہے‘ جیسے اِس وقت شہباز شریف ہو چکے ہیں۔

اْدھر سابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ سینیٹ میں کہہ رہے تھے کہ عمران خان نے بطور وزیراعظم اپنے دور میں ہزارہ برادری کے ہاتھوں بلیک میل نہ ہو کر اچھا کیا تھا۔ بقول ان کے ہزارہ برادری کے مقتولین کے ورثا‘ جو سڑک پر اپنے پیاروں کی لاشیں لے کر بیٹھے تھے‘ وہ عمران خان کو بلیک میل کر رہے تھے‘ وہ بلیک میل نہیں ہوئے‘ آج بھی آپ بلوچستان میں لاشوں سے بلیک میل نہ ہوں۔ میں حیرانی سے کاکڑ صاحب کو سنتا رہا کہ وزیراعظم کو عوام سے بلیک میل نہیں ہونا چاہیے‘ تو پھر ایک آمر اور وزیراعظم میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟ وزیراعظم عوام سے آتا ہے اور انہیں جوابدہ ہوتا ہے۔ جب کوئی وزیراعظم یہ سوچ لے کہ وہ عوام سے بلیک میل نہیں ہو گا تو پھر وہ پھانسی لگ جائے‘ جلاوطن ہو جائے یا جیل جا بیٹھے‘ عوام بھی پروا نہیں کرتے۔ (بشکریہ: روز نامہ دنیا)

رؤف کلاسرا سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: یوسف رضا گیلانی پارلیمنٹ میں اپنے دور میں پارلیمنٹ کے بلیک میل نہ شہباز شریف وزیر داخلہ نواز شریف انہوں نے عوام سے نہیں ہو ہے اور

پڑھیں:

امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے

اسکردو (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 02 جون 2026ء ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا اور پورے جی بی کا دورہ کیا اور اسی وقت سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنا جی بی میں نے دیکھا ہے وہ کسی سیاستدان نے نہیں دیکھا۔

ساری جماعتوں کے دورے ملا کر بھی ہمارے دوروں کے مقابلے میں کم ہیں۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کو ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئیں ہیں، بچیوں کو شہید کیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔

(جاری ہے)

جس طرح رمضان میں آیتہ اللہ خامنئی کو ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں ہیں ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو ۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشہ بڑھ گئی ہے اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں کی ترقی اصل ترقی ہے۔

قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو نے کسانوں کو زمین مہیا کی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے عوام کا نعرہ تھا “بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی”۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماﺅوں کی دعاﺅں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کوختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔

آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے Bases کو بند کیا۔ جب حال ہی میں مختلف ممالک میں بم دھماکے ہو رہے تھے تو میں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بم اور شہید بی بی کا ذکر کروں گا تو صدر زرداری کو بھی خراج تحسین پیش کروں گا۔

ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ہر لحاظ سے مضبوط ہو صرف پی پی پی ہی معاشی طور پر یہ کام کر سکتی ہے۔ یہ تین نسلوں کی جدوجہد ہے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے سرداری نظام ختم کیا۔ FCR کا خاتمہ کیا۔ قائدعوام نے بلتستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ گندم اور پٹرول پر سبسیڈی قائدعوام نے دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سب کچھ جدوجہد سے حاصل کیا۔

جی بی کو پہلے ناردرن ایریا کہتے تھے صدر زرداری نے جی بی کا نام دیا۔ اب ہم نے مل کر جدوجہد کرکے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔

وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ شہید بی بی نوے کی دہائی میں یہ منصوبہ شروع کرنا چاہتی تھیں لیکن اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ ہم نے یہ منصوبہ 2015 میں شروع کیا اور اس منصوبے کے سربراہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو بنایا۔ اس منصوبے میں روزگار کا 80 فیصد تھر کے عوام کو دیا گیا۔

تھر کے منصوبے سے تھرکے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شئیر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ CPEC کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکو ل کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں لیکن دوسرے لوگ غریبوں کا روزگار چھینتے ہیں۔

یہ سمجھتے ہیں کہ امیر کو اور امیر بنائیں گے تو وہ نوکریاں دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔

سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے اور یہ گھر موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔

خواتین کو ان گھروں کا مالک بنایا اور زمین کی یہ منتقلی قائد عوام کے بعد سب سے بڑا منصوبہ ہے کیونکہ یہ زمین بھی خواتین کے نام کر رہے ہیں۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ ہم غریب اور عوام دوست ہیں اسی لئے بی آئی ایس پی اور گھروں کا منصوبہ دیتے ہیں ۔ سندھ میں ہسپتال بنائے، سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یوٹی اور ڈاﺅ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل ، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔

دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشااللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگاکر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔

ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے اور آپ کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے ڈاکٹر مبشر حسن کو ایک تحقیق کرنے کو کہا تھا جس سے 70 کی دہائی میں یہ بات سامنے آئی کہ جی بی میں ہم 50ہزار میگا واٹ بجلی بنا سکتے ہیں جو ہم بنا کر دکھائیں گے۔ یہ منصوبہ اسلام آباد میں کوئی بیوروکریٹ نہیں ہم اور آپ مل کر بنائیں گے اور اسلام آباد کو بجلی بیچیں گے۔

7تاریخ کو اس صوبے کے عوام کو سوچنا ہے کہ آپس میں لڑ کر کسی اور کو فائدہ نہ پہنچائیں۔ پی پی پی کو بھاری اکثریت ملتی ہے تو ہم مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ہم نے سکردو کو وزیراعلی اور گورنر دیا۔ یہ صرف مہدی شاہ کی عزت نہیں بلکہ سکردو کے عوام کی عزت ہے۔ اب میدان میں نئی نسل آگئی ہے اور آپ کے ووٹ اور ساتھ کی وجہ سے توقیر شاہ کو سکردو 1 سے جتوائیں گے۔

آپ سکردو 2 میں محمد علی شاہ کو ووٹ دیںسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد کو جتوانا ہے۔ اسکردو4 میں راجہ ناصر علی خان کو منتخب کرنا ہے۔ خرمنگ کے اقبال حسین کو جتوانا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں شگر سے عمران ندیم کو نہیں جیتنے دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ انہیں جتوانا ہے اور گھانچے1 سے ڈاکٹر عاشق حسین کو منتخب کرنا ہے۔ گھانچے 2 میں میری امیدوار آمنہ انصاری ہیں اور گھانچے 3 میں انجینئر محمد اسماعیل ہیں۔

میں چاہتا ہوں کہ انجینئر محمد اسماعیل کے حلقے سے جی بی ہاﺅسنگ اینی شئیٹو شروع کروں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام امیدواروں سے ہاتھ کھڑے کروا کر وعدہ لیا کہ وہ منتخب ہوکر عوام کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے عوام سے بھی وعدہ لیا کہ 7جون کو تیرپر مہر لگائیں تاکہ شہید قائد عوام اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کیا جا سکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایو س نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف