دہشتگردوں نے شیر جیسا بیٹا مار کر میری کمر توڑ دی، کوئٹہ فائرنگ میں فرزند کھونے والے باپ کی فریاد
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
ریلوے کالونی کوئٹہ کے رہائشی جاوید کا 24 سالہ بیٹا محمد صدیق ہفتے کی صبح زرغون روڈ پر مسلح افراد کی فائرنگ کا نشانہ بن کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پولیس میں بھرتی ہوکر دہشتگردوں سے بابا کا بدلہ لوں گی‘، کوئٹہ کے شہید پولیس اہلکار کی ننھی بیٹی کا عزم
شہید نوجوان کے والد جاوید نے روتے ہوئے بتایا کہ ان کا بیٹا ان کی آنکھوں کے سامنے سڑک پر تقریباً ڈھائی گھنٹے تک تڑپتا رہا۔ شدید فائرنگ کے باعث وہ فوری طور پر اپنے بیٹے کو اسپتال منتقل نہ کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مسلسل گاڑیاں روکنے کی کوشش کرتے رہے اور لوگوں سے مدد کی منتیں کرتے رہے مگر خوف کے مارے کوئی قریب آنے کو تیار نہ ہوا۔
جاوید کے مطابق دہشتگرد علاقے میں اس بے خوفی سے گھوم رہے تھے جیسے اپنے گھر میں ٹہل رہے ہوں۔ بعد ازاں اہلخانہ اور رشتہ دار بڑی مشکل سے صدیق کو اسپتال پہنچانے میں کامیاب ہوئے لیکن زندگی بیٹے کا اتنا انتظار نہ کرسکی۔
مزید پڑھیے: کوئٹہ: دہشتگردی کے واقعات میں شہید پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا، اعلیٰ حکام کی شرکت
والد نے بتایا کہ انہوں نے ڈاکٹروں کے سامنے گڑگڑا کر اپنے بیٹے کی جان بچانے کی درخواست کی مگر وہ جانبر نہ ہو سکا۔
غم زدہ والد نے کہا کہ وہ میرا فرمانبردار بیٹا تھا، میرا سہارا تھا لیکن دہشتگردوں نے میری کمر توڑ دی۔
محمد صدیق ایک بیکری میں ملازمت کرتا تھا اور روزانہ 12 سے 13 گھنٹے محنت کر کے جو معمولی تنخواہ کماتا اسی سے گھر کے اخراجات پورے ہوتے تھے۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ: بلوچستان بھر میں دفعہ 144 نافذ، ایک ماہ کے لیے سخت پابندیاں عائد
جاوید خود ریلوے کے ملازم ہیں اور ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں جبکہ صدیق کی والدہ شدید علیل ہیں۔ 4 بہن بھائیوں میں صدیق سب سے بڑا اور گھر کا واحد کفیل تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
کوئٹہ کوئٹہ دہشتگردی کوئٹہ شہادتیں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کوئٹہ کوئٹہ دہشتگردی کوئٹہ شہادتیں
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔