جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، دو نومولود بچوں سمیت 24 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
اسرائیلی فضائی حملوں میں غزہ کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 24 فلسطینی جاں بحق ہو گئے، جن میں دو نومولود بچے بھی شامل ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق حملوں میں خواتین، بچوں اور ایک ڈیوٹی پر موجود طبی اہلکار کی بھی جان گئی۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں تین عسکری رہنماؤں کو ہدف بنایا گیا اور بعض کارروائیاں اس وقت کی گئیں جب غزہ میں موجود اس کے فوجیوں پر فائرنگ کی گئی، جس میں ایک اسرائیلی ریزرو فوجی شدید زخمی ہوا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق حملے فوری ردعمل کے طور پر کیے گئے۔
غزہ کے شفا اسپتال کے حکام کے مطابق شمالی غزہ کے طفاح علاقے میں ایک عمارت پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے کم از کم 11 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں خواتین اور بچے شامل تھے۔ اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابو سلمیہ نے سیزفائر پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ زمینی صورتحال سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جنگ رکی نہیں ہے۔
بدھ کے روز خان یونس کے المواسی علاقے میں ایک خیمے کو نشانہ بنائے جانے سے کم از کم تین افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ مقامی طبی ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں ایک پیرا میڈک بھی شامل تھا۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس حملے میں حماس کے ایک کمانڈر کو نشانہ بنایا گیا اور شہریوں کو نقصان سے بچانے کی کوشش کی گئی۔
مزید پڑھیںغزہ کے نام نہاد بورڈ آف پیس میں شمولیت فی الفور واپس لینی چاہیے، اپوزیشن اتحاد
غزہ میں امداد پر نئی پابندی: اسرائیل نے ’ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ کو کام کرنے سے روک دیا
غزہ سٹی کے الشاطی پناہ گزین کیمپ میں بھی ایک حملے میں ایک شخص جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔ مجموعی طور پر بدھ کے روز ہونے والے حملوں میں کم از کم 38 افراد زخمی ہوئے۔
اکتوبر 2025 میں نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے باوجود وقفے وقفے سے ہونے والے ان حملوں نے سیزفائر کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
غزہ کے صحت حکام کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 556 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں نصف سے زائد خواتین اور بچے شامل ہیں، جبکہ اسرائیل کے مطابق اس دوران اس کے چار فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔
ادھر رفح بارڈر کراسنگ پر آمد و رفت محدود رہی، جہاں مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اگرچہ انسانی امداد میں کچھ اضافہ ہوا ہے، تاہم سیزفائر معاہدے کے کئی اہم نکات، جن میں غزہ کی تعمیر نو اور بین الاقوامی سیکیورٹی فورس کی تعیناتی شامل ہے، تاحال تعطل کا شکار ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حملوں میں کے مطابق میں ایک غزہ کے
پڑھیں:
یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
دبئی: یو اے ای ویزا آن ارائیول سے متعلق متحدہ عرب امارات نے نئی شرائط، فیس اور درخواست کے طریقہ کار کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ نئی ہدایات کے تحت مخصوص ممالک کے اہل شہری امارات پہنچنے پر 14 یا 60 روزہ ویزا حاصل کر سکیں گے، تاہم اس کے لیے مقررہ شرائط پر پورا اترنا لازمی ہوگا۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق بھارت، انڈونیشیا، ویتنام، تھائی لینڈ، فلپائن، کینیا اور جنوبی افریقہ کے شہری، اور ان کے ہمراہ سفر کرنے والے اہل خانہ، اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق درخواست گزار کے پاس کم از کم چھ ماہ کے لیے کارآمد پاسپورٹ، سفید پس منظر والی حالیہ رنگین تصویر اور امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا یا سنگاپور کی جانب سے جاری کردہ قابل قبول رہائشی پرمٹ یا ویزا ہونا ضروری ہے۔
اعلامیے کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کو صرف ایک مرتبہ مزید 14 دن کے لیے توسیع دی جا سکتی ہے، جبکہ 60 روزہ ویزا میں توسیع کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔
جی ڈی آر ایف اے نے بتایا کہ ویزا کے لیے درخواست اس کی سرکاری ویب سائٹ یا اسمارٹ ایپ کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہے۔ درخواست کی منظوری کے بعد ویزا رجسٹرڈ ای میل پر ارسال کیا جائے گا، جبکہ عام طور پر درخواستوں پر 48 گھنٹوں کے اندر کارروائی مکمل کر لی جاتی ہے۔
فیس کے حوالے سے جاری تفصیلات کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کی فیس 172.50 درہم جبکہ 60 روزہ ویزا کی فیس 422.50 درہم مقرر کی گئی ہے۔
جی ڈی آر ایف اے کا کہنا ہے کہ اس سہولت کا مقصد بین الاقوامی مسافروں کے لیے سفری عمل کو مزید آسان بنانا، سیاحت کو فروغ دینا اور زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو متحدہ عرب امارات کی جانب راغب کرنا ہے۔
ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران اس پروگرام کے تحت 73 ہزار 551 ویزے جاری کیے جا چکے ہیں، جو اس سہولت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اہم وضاحت: جاری کردہ شرائط میں پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز شامل نہیں ہیں۔ یہ سہولت صرف ان مخصوص ممالک کے شہریوں کے لیے ہے جن کا جی ڈی آر ایف اے نے اعلان کیا ہے۔