انگلینڈ کے سابق کپتان اور معروف کمنٹیٹر ناصر حسین نے بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ تنازع سے متعلق بنگلادیش اور پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی۔

برطانوی چینل کے پوڈکاسٹ میں سابق انگلش کپتان مائیکل ایتھرٹن کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ناصر حسین نے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے ’اپنی بات پر قائم رہنے‘ کے فیصلے کو سراہتے ہیں۔

یہ ایونٹ 7 فروری سے 8 مارچ تک بھارت اور سری لنکا میں شیڈول ہے، تاہم بنگلادیش نے سیکیورٹی خدشات کے باعث بھارت جانے سے انکار کیا تھا، جس کے بعد اسے ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا گیا۔

ناصر حسین کا کہنا تھا کہ بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے اپنے کھلاڑی مستفیض الرحمان کے حق میں مضبوط مؤقف اپنایا، جنہیں کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے آئی پی ایل میں منتخب کرنے کے باوجود اچانک اسکواڈ سے نکال دیا۔


اسی فیصلے کے بعد معاملات بگڑتے چلے گئے اور پاکستان نے بھی بنگلادیش کی حمایت میں بھارت کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار کر دیا۔

اب 15 فروری کو کولمبو میں متوقع پاک-بھارت میچ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔

ناصر حسین نے کرکٹ میں سیاست کے بڑھتے ہوئے عمل کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ کھیل کا مقصد ممالک کو قریب لانا تھا، مگر اب یہی کھیل فاصلے بڑھا رہا ہے۔

انہوں نے ایشیا کپ 2025 میں ہاتھ نہ ملانے اور ٹرافی لینے سے انکار جیسے واقعات کو بھی مایوس کن قرار دیا۔

ناصر حسین نے آئی سی سی سے یکساں سلوک کا مطالبہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر یہی درخواست بھارت کی جانب سے آتی تو کیا فیصلہ مختلف ہوتا؟

ان کا کہنا تھا کہ اب بھارتی شائقین روئیں گے کہ ہمارے پاس پیسہ ہے، لیکن طاقت کے ساتھ ذمہ داری بھی ہوتی ہے، اور اگر چھوٹے ممالک کو مسلسل نظرانداز کیا گیا تو کرکٹ کا توازن مزید بگڑ جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار

نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔

فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔

اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار