پی ایس ایل تاریخ کا نیا ریکارڈ، اسٹیو اسمتھ سب سے مہنگے کرکٹر
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان سپر لیگ کے 11ویں ایڈیشن سے قبل کھلاڑیوں کے معاوضوں نے کرکٹ حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں آسٹریلوی اسٹار بیٹر اسٹیو اسمتھ لیگ کی تاریخ کے مہنگے ترین کھلاڑی بن کر سامنے آئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی شامل ہونے والی فرنچائز سیالکوٹ اسٹالینز نے اسٹیو اسمتھ کے ساتھ براہِ راست معاہدہ کرتے ہوئے انہیں 14 کروڑ روپے سے زائد معاوضہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، جو پی ایس ایل کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ ہے۔
ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اسٹیو اسمتھ کو 5 لاکھ ڈالر سے زیادہ معاوضہ دیا جائے گا، جو پاکستانی کرنسی میں 14 کروڑ روپے سے تجاوز کر جاتا ہے۔ اس معاہدے کے بعد اسٹیو اسمتھ پی ایس ایل کے سب سے مہنگے کرکٹر بن گئے ہیں جب کہ یہ رقم قومی ٹیم کے سابق کپتان بابر اعظم کو ملنے والے معاوضے سے تقریباً دگنی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایک اور فرنچائز بھی اسٹیو اسمتھ کو اسی سطح کا معاوضہ دینے کے لیے تیار تھی، تاہم حتمی معاہدہ سیالکوٹ اسٹالینز کے ساتھ طے پا گیا۔
واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ کا 11واں ایڈیشن مارچ میں منعقد ہوگا اور اس بار پاکستان کرکٹ بورڈ نے ہر فرنچائز کو ایک غیر ملکی کرکٹر سے براہِ راست معاہدے کی اجازت دی تھی، بشرطیکہ وہ کھلاڑی گزشتہ سیزن میں پی ایس ایل کا حصہ نہ رہا ہو۔ اسی پالیسی کے تحت سیالکوٹ اسٹالینز نے اسٹیو اسمتھ کو اپنی ٹیم کا حصہ بنایا۔
دوسری جانب 2 نئی فرنچائزز کی شمولیت کے بعد پی سی بی نے پرانی ٹیموں کے لیے ریٹینشن کی حد 8 سے کم کر کے 4 کر دی تھی۔ ہر فرنچائز کو مختلف کیٹیگریز سے ایک ایک کھلاڑی برقرار رکھنے کی اجازت دی گئی۔ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی فہرست کے مطابق زیادہ تر فرنچائزز نے اپنے پلاٹینیئم کھلاڑیوں کے لیے 7، 7 کروڑ روپے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض کھلاڑیوں کو کاغذی طور پر ظاہر کیے گئے معاوضے سے کہیں زیادہ رقم دی جائے گی، جبکہ سرکاری ریکارڈ میں صرف اعلان شدہ رقم ہی دکھائی جائے گی۔ رواں برس نئی ٹیموں کی آمد سے کھلاڑیوں کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور کئی کرکٹرز نے دیگر آفرز کی بنیاد پر اپنی فرنچائزز سے زیادہ معاوضہ حاصل کر لیا ہے، جس سے پی ایس ایل 11 مالی اعتبار سے بھی تاریخ کا سب سے مہنگا ایڈیشن بنتا دکھائی دے رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسٹیو اسمتھ پی ایس ایل
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔