Islam Times:
2026-07-24@02:12:42 GMT

ایران ہمارا قریبی ساتھی ہے لاتعلق نہیں رہ سکتے، روس

اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT

ایران ہمارا قریبی ساتھی ہے لاتعلق نہیں رہ سکتے، روس

اپنے انٹرویو میں وزیر خارجہ نے کہا کہ روس مشرق وسطیٰ کی موجودہ پیچیدگیوں پر بات چیت کے لیے اسرائیل، امریکہ اور ایران کے ساتھ رابطے میں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ روسی وزیر خارجہ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران ہمارا قریبی ساتھی ہے اور روس نے ثالثی کے لیے اپنی آمادگی کا اظہار بھی کیا ہے۔ تسنیم نیوز کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے RT ٹیلی ویژن چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ایران میں ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران روس کا قریبی ساتھی ہے اور ماسکو خطے کی موجودہ پیچیدگیوں سے متعلق پیش رفت سے لاتعلق نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور ایران کے تعلقات کی پیچیدگی نہ صرف تہران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے لیے ممکنہ طور پر دھماکہ خیز ہے۔

لاوروف نے کہا کہ روس مشرق وسطیٰ میں موجودہ پیچیدگیوں کو حل کرنے کے لیے اسرائیل، ایران یا امریکہ پر ثالث کے طور پر مرضی مسلط کرنیکا قائل نہیں ہے۔ روس کے وزیر خارجہ نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ اسرائیل، امریکہ اور ایران جانتے ہیں کہ ماسکو مشرق وسطی کی صورتحال کے حل میں شرکت کے لیے تیار ہے اور سابقہ معاہدوں پر عمل پیرا ہے۔ روس کے وزیر خارجہ نے کہا کہ روس مشرق وسطیٰ کی موجودہ پیچیدگیوں پر بات چیت کے لیے اسرائیل، امریکہ اور ایران کے ساتھ رابطے میں ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امریکہ اور ایران کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران