ویب ڈیسک: پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں کالعدم بی ایل اے پر عالمی پابندیاں لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے کی زیرِ غور درخواست منظور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں دہشت گردی سے عالمی امن و سلامتی کو لاحق خطرات پر بحث کے دوران کیا گیا۔

ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ کرنیوالے شخص کو عمر قید

سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بیرونی سرپرستی اور غیر ملکی مالی معاونت سے چلنے والے پراکسی دہشت گرد گروہوں کو نئی زندگی ملی ہے۔ ان گروہوں میں فتنۃ الخوارج تحریک طالبان پاکستان اور فتنۃ الہندوستان بلوچ لبریشن آرمی اور اس کی مجید بریگیڈ شامل ہیں۔

پاکستانی مندوب نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ دہشت گرد گروہ افغان سرزمین سے تقریباً مکمل استثنا کے ساتھ کارروائیاں کر رہے ہیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کے مشرقی ہمسایے کی کھلی حمایت سے یہ گروہ پاکستان کے اندر سفاکانہ دہشت گرد حملوں کے ذمہ دار ہیں، جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کو خطرات لاحق ہیں۔

دنیا کے 40 فیصد اینڈرائیڈ فونز نئے سائبر حملوں کے خطرے سے دوچار

عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کو آگاہ کیا کہ ابھی گزشتہ ہفتے ہی کالعدم بی ایل اے نے بلوچستان کے مختلف مقامات پر متعدد دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔ ان حملوں کے نتیجے میں 48 بے گناہ شہری شہید ہوئے، جسے پاکستان نے دہشت گردی کی بدترین مثال قرار دیا۔

پاکستان نے زور دیا کہ عالمی برادری بالخصوص سلامتی کونسل ایسے دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر اقدامات کرے جو بیرونی سرپرستی اور مالی معاونت کے ذریعے خطے کے امن کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ بی ایل اے کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنا دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں کے لیے ناگزیر ہے۔

خواتین کیلئے بلاسود کاروباری قرضوں کا بڑا اعلان

Ansa Awais Content Writer.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سلامتی کونسل سلامتی کو بی ایل اے

پڑھیں:

انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران

ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔

ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ