data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سعودی عرب نے ایک منفرد اور غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے ملک میں موجود لاکھوں اونٹوں کو باقاعدہ پاسپورٹ جاری کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق اس منصوبے کا مقصد مملکت میں موجود قیمتی اونٹوں کے ریوڑوں کا بہتر انتظام، نگرانی اور شناخت کو ممکن بنانا ہے، تاکہ اس روایتی مگر اہم شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔

سعودی وزارتِ ماحولیات، پانی اور زراعت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے اونٹوں کی افزائش، نقل و حرکت اور دیکھ بھال کے نظام میں نمایاں بہتری آئے گی۔ وزارت کے مطابق پاسپورٹ کے اجرا کے بعد اونٹوں سے متعلق ایک جامع اور قابلِ اعتماد ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا، جو اس شعبے کی پیداواری صلاحیت اور شفافیت میں اضافے کا باعث بنے گا۔

وزارت کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی پوسٹ میں اونٹوں کے پاسپورٹ کی تصویر بھی شیئر کی گئی، جو سبز رنگ کا ہے اور اس پر سعودی قومی نشان کے ساتھ سنہری رنگ میں اونٹ کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ اس اقدام نے نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ عالمی میڈیا میں بھی خاصی توجہ حاصل کی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 تک سعودی عرب میں اونٹوں کی تعداد تقریباً 22 لاکھ ہے۔ اونٹ صدیوں سے عرب معاشرے میں نہ صرف نقل و حمل کا ذریعہ رہے ہیں بلکہ انہیں وقار، دولت اور سماجی حیثیت کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔ اسی روایت نے وقت کے ساتھ ایک منافع بخش افزائشی صنعت کو جنم دیا ہے، جس میں جدید طریقوں سے اونٹ پالے اور فروخت کیے جاتے ہیں۔

سعودی عرب میں ہر سال منعقد ہونے والے ثقافتی تہواروں میں اونٹوں کے حسن کے مقابلے بھی ہوتے ہیں، جہاں شوقین افراد اپنے اونٹوں پر لاکھوں بلکہ کروڑوں ڈالر تک خرچ کرتے ہیں، تاہم بعض مواقع پر مقابلوں میں غیر قانونی طریقوں سے برتری حاصل کرنے کی شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

حکام کے مطابق اونٹوں کے پاسپورٹ کا اجرا ان تمام مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوگا اور یہ اقدام مملکت میں زراعت اور مویشی پالنے کے شعبے میں ایک نئی مثال قائم کرے گا، جہاں روایت اور جدیدیت کو یکجا کیا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میں اونٹوں اونٹوں کے کے مطابق

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری