عمران خان کی صحت بگڑ رہی ہے، والد سے ملنے پاکستان جانا چاہتے ہیں، قاسم خان
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے سوشل میڈیا پر پیغام جاری کردیا۔
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری بیان میں قاسم خان نے کہا کہ وہ اور ان کا بھائی والد سے ملنے پاکستان جانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کہا کہ عمران خان 914 دن سے قید تنہائی میں ہیں اور ان کی صحت بگڑ رہی ہے۔
قاسم خان نے کہا کہ عمران خان کو آزاد طبی سہولت تک رسائی نہیں دی جا رہی، حکومت جان بوجھ کر ہماری ویزا درخواستوں پر کارروائی نہیں کر رہی، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں اور حکومتیں اس معاملے پرآواز اٹھائیں۔
My brother and I are trying to travel to Pakistan to see our father.
Now the government is deliberately refusing to process our visas.… pic.twitter.com/L23ZRmRDZj
— Kasim Khan (@Kasim_Khan_1999) February 4, 2026
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔