WE News:
2026-07-24@02:23:50 GMT

70 دن بعد واپسی، سہیل آفریدی کی سیاست میں بلوغت

اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT

70 دن بعد واپسی، سہیل آفریدی کی سیاست میں بلوغت

 

ستر روز پہلے ایک نمازِ جنازہ میں تلخ جملوں نے ماحول کو سرد کر دیا تھا، آج اسی صوبے کا وزیرِ اعلیٰ ایک اور شہید کو کندھا دیتے نظر آیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ وہی سہیل آفریدی ہیں یا واقعی کچھ بدل چکا ہے؟

یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی اور طالبہ کا دلچسپ مکالمہ، سوال کرپشن جواب جماعتی وابستگی و دیگر صوبے

4 فروری 2026 کو وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے شہید کیپٹن عباس خان کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔ ان کے ہمراہ کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل عمر بخاری، چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ اور آئی جی پولیس ذوالفقار حمید بھی موجود تھے۔ بظاہر یہ ایک معمول کی سرکاری شرکت تھی، مگر پس منظر میں جھانکیں تو یہ قدم غیر معمولی دکھائی دیتا ہے۔

اس سے قبل 24 نومبر 2025 کو فیڈرل کانسٹبلری ہیڈکوارٹر پر حملے میں شہید ہونے والے اہلکاروں کی نمازِ جنازہ میں بھی وزیرِ اعلیٰ شریک ہوئے تھے، مگر اس روز کا منظر مختلف تھا۔

 تلخی کا پس منظر

قابلِ اعتماد ذرائع کے مطابق جنازے کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ اور کور کمانڈر کے درمیان چند سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ فضا میں تناؤ محسوس کیا جا سکتا تھا۔ کور کمانڈر نے صوبے کے حالات کے پیشِ نظر مل بیٹھ کر معاملات حل کرنے کی بات کی، مگر سہیل آفریدی کا ردِعمل غیر متوقع طور پر سخت تھا۔ انہوں نے کہا:

’آپ نے بیٹھنے کے لائق کچھ چھوڑا ہے؟ ہری پور میں جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا، اس کے بعد کیسے بیٹھیں؟‘

چند جملوں کی یہ گفتگو ماحول کو کشیدہ کرنے کے لیے کافی تھی۔ اردگرد موجود افراد چہروں کے تاثرات سے ہی معاملے کی سنگینی سمجھ گئے۔

یہ واقعہ بھی اتفاقی نہیں تھا۔ اس سے ایک روز قبل 23 نومبر 2025 کو ہری پور میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 18 کے ضمنی انتخابات ہوئے تھے، جن میں پی ٹی آئی کو شکست ہوئی اور پارٹی نے نتائج کو دھاندلی زدہ قرار دیا تھا۔ اسی سیاسی پس منظر نے شاید اس تلخی کو اور بڑھا دیا۔ اس دن کے بعد فاصلے بڑھتے گئے۔ وزیرِ اعلیٰ کئی نمازِ جنازہ میں شریک نہ ہوئے، یہاں تک کہ انہوں نے ایک ویڈیو بیان میں شکوہ کیا کہ انہیں شہداء کے جنازوں میں بلایا ہی نہیں جاتا۔

رویے میں تبدیلی کے آثار

مگر اب منظر بدل رہا ہے۔ تقریباً ستر دن بعد وہی سہیل آفریدی دوبارہ جنازے میں نظر آئے۔ پھر ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں بھی کور کمانڈر کے ساتھ بیٹھ کر صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ یہ محض رسمی ملاقات نہیں تھی بلکہ ایک عملی پیش رفت تھی۔

یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی نے دہشتگردی کے خلاف بھرپور کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی، رانا ثنااللہ نے میٹنگ کا احوال بتا دیا

یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان 110 دنوں میں وزیرِ اعلیٰ نے سیاست اور حکمرانی کی کچھ تلخ حقیقتیں سیکھ لی ہیں۔ سوشل میڈیا کی دھونس، جذباتی بیانات اور سخت لب و لہجہ وقتی طور پر ویوز اور لائکس تو دلا سکتے ہیں، مگر ریاستی معاملات اس سے نہیں چلتے۔ خیبر پختونخوا جیسے حساس صوبے میں مفاہمت، رابطہ اور اداروں کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ ناگزیر ہوتی ہے۔

مفاہمت کی سیاست

اسی تبدیلی کا عکس عملی اقدامات میں بھی نظر آتا ہے۔ تیراہ آپریشن کے دوران متاثرین کو سہولیات فراہم کی گئیں، انخلاء کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی گئیں۔ صرف تیراہ ہی نہیں بلکہ عوام کی نظروں سے اوجھل کرم میں بھی آپریشن شروع ہوا، انخلاء مکمل کیا گیا اور کیمپ قائم کیے گئے۔ یہ وہی معاملات ہیں جن پر ابتدا میں سخت مؤقف اختیار کیا گیا تھا، مگر اب رویے میں لچک دکھائی دے رہی ہے۔

دوسری طرف انہیں اپنی ہی جماعت کے سوشل میڈیا دباؤ کا سامنا بھی ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے وفاق اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا راستہ اختیار کیا۔ بظاہر یہ فیصلہ سیاسی طور پر مشکل ضرور ہے، مگر انتظامی اعتبار سے ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔

اب سہیل آفریدی محض ردِعمل دینے والے سیاستدان نہیں بلکہ فیصلے کرنے والے چیف ایگزیکٹو کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ شاید انہیں اندازہ ہو چکا ہے کہ تصادم نہیں، مکالمہ ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عطا تارڑ کا عمران خان کی صحت اور سہیل آفریدی کے رویے سے متعلق اہم بیان

منزل ابھی دور ہے اور چیلنجز بھی کم نہیں، مگر اگر یہی طرزِ عمل برقرار رہا تو نہ صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتفاقِ رائے پیدا ہو سکتا ہے بلکہ وفاق کے ساتھ انتظامی اور مالی معاملات میں بھی پیش رفت ممکن ہے۔ شاید یہی اصل تبدیلی ہے،اور شاید یہی خیبر پختونخوا کی سب سے بڑی ضرورت بھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ

اسلام آباد:

پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔

بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف