WE News:
2026-06-02@22:15:07 GMT

70 دن بعد واپسی، سہیل آفریدی کی سیاست میں بلوغت

اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT

70 دن بعد واپسی، سہیل آفریدی کی سیاست میں بلوغت

 

ستر روز پہلے ایک نمازِ جنازہ میں تلخ جملوں نے ماحول کو سرد کر دیا تھا، آج اسی صوبے کا وزیرِ اعلیٰ ایک اور شہید کو کندھا دیتے نظر آیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ وہی سہیل آفریدی ہیں یا واقعی کچھ بدل چکا ہے؟

یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی اور طالبہ کا دلچسپ مکالمہ، سوال کرپشن جواب جماعتی وابستگی و دیگر صوبے

4 فروری 2026 کو وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے شہید کیپٹن عباس خان کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔ ان کے ہمراہ کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل عمر بخاری، چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ اور آئی جی پولیس ذوالفقار حمید بھی موجود تھے۔ بظاہر یہ ایک معمول کی سرکاری شرکت تھی، مگر پس منظر میں جھانکیں تو یہ قدم غیر معمولی دکھائی دیتا ہے۔

اس سے قبل 24 نومبر 2025 کو فیڈرل کانسٹبلری ہیڈکوارٹر پر حملے میں شہید ہونے والے اہلکاروں کی نمازِ جنازہ میں بھی وزیرِ اعلیٰ شریک ہوئے تھے، مگر اس روز کا منظر مختلف تھا۔

 تلخی کا پس منظر

قابلِ اعتماد ذرائع کے مطابق جنازے کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ اور کور کمانڈر کے درمیان چند سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ فضا میں تناؤ محسوس کیا جا سکتا تھا۔ کور کمانڈر نے صوبے کے حالات کے پیشِ نظر مل بیٹھ کر معاملات حل کرنے کی بات کی، مگر سہیل آفریدی کا ردِعمل غیر متوقع طور پر سخت تھا۔ انہوں نے کہا:

’آپ نے بیٹھنے کے لائق کچھ چھوڑا ہے؟ ہری پور میں جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا، اس کے بعد کیسے بیٹھیں؟‘

چند جملوں کی یہ گفتگو ماحول کو کشیدہ کرنے کے لیے کافی تھی۔ اردگرد موجود افراد چہروں کے تاثرات سے ہی معاملے کی سنگینی سمجھ گئے۔

یہ واقعہ بھی اتفاقی نہیں تھا۔ اس سے ایک روز قبل 23 نومبر 2025 کو ہری پور میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 18 کے ضمنی انتخابات ہوئے تھے، جن میں پی ٹی آئی کو شکست ہوئی اور پارٹی نے نتائج کو دھاندلی زدہ قرار دیا تھا۔ اسی سیاسی پس منظر نے شاید اس تلخی کو اور بڑھا دیا۔ اس دن کے بعد فاصلے بڑھتے گئے۔ وزیرِ اعلیٰ کئی نمازِ جنازہ میں شریک نہ ہوئے، یہاں تک کہ انہوں نے ایک ویڈیو بیان میں شکوہ کیا کہ انہیں شہداء کے جنازوں میں بلایا ہی نہیں جاتا۔

رویے میں تبدیلی کے آثار

مگر اب منظر بدل رہا ہے۔ تقریباً ستر دن بعد وہی سہیل آفریدی دوبارہ جنازے میں نظر آئے۔ پھر ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں بھی کور کمانڈر کے ساتھ بیٹھ کر صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ یہ محض رسمی ملاقات نہیں تھی بلکہ ایک عملی پیش رفت تھی۔

یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی نے دہشتگردی کے خلاف بھرپور کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی، رانا ثنااللہ نے میٹنگ کا احوال بتا دیا

یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان 110 دنوں میں وزیرِ اعلیٰ نے سیاست اور حکمرانی کی کچھ تلخ حقیقتیں سیکھ لی ہیں۔ سوشل میڈیا کی دھونس، جذباتی بیانات اور سخت لب و لہجہ وقتی طور پر ویوز اور لائکس تو دلا سکتے ہیں، مگر ریاستی معاملات اس سے نہیں چلتے۔ خیبر پختونخوا جیسے حساس صوبے میں مفاہمت، رابطہ اور اداروں کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ ناگزیر ہوتی ہے۔

مفاہمت کی سیاست

اسی تبدیلی کا عکس عملی اقدامات میں بھی نظر آتا ہے۔ تیراہ آپریشن کے دوران متاثرین کو سہولیات فراہم کی گئیں، انخلاء کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی گئیں۔ صرف تیراہ ہی نہیں بلکہ عوام کی نظروں سے اوجھل کرم میں بھی آپریشن شروع ہوا، انخلاء مکمل کیا گیا اور کیمپ قائم کیے گئے۔ یہ وہی معاملات ہیں جن پر ابتدا میں سخت مؤقف اختیار کیا گیا تھا، مگر اب رویے میں لچک دکھائی دے رہی ہے۔

دوسری طرف انہیں اپنی ہی جماعت کے سوشل میڈیا دباؤ کا سامنا بھی ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے وفاق اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا راستہ اختیار کیا۔ بظاہر یہ فیصلہ سیاسی طور پر مشکل ضرور ہے، مگر انتظامی اعتبار سے ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔

اب سہیل آفریدی محض ردِعمل دینے والے سیاستدان نہیں بلکہ فیصلے کرنے والے چیف ایگزیکٹو کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ شاید انہیں اندازہ ہو چکا ہے کہ تصادم نہیں، مکالمہ ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عطا تارڑ کا عمران خان کی صحت اور سہیل آفریدی کے رویے سے متعلق اہم بیان

منزل ابھی دور ہے اور چیلنجز بھی کم نہیں، مگر اگر یہی طرزِ عمل برقرار رہا تو نہ صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتفاقِ رائے پیدا ہو سکتا ہے بلکہ وفاق کے ساتھ انتظامی اور مالی معاملات میں بھی پیش رفت ممکن ہے۔ شاید یہی اصل تبدیلی ہے،اور شاید یہی خیبر پختونخوا کی سب سے بڑی ضرورت بھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 

سٹی 42:صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  نے بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش  کی 

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ   نے  بلوچستان میں 17 بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کی ہلاکت پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ملک دشمن عناصر کو سختی سے کچلا جائے گا۔سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔پوری قوم کو اپنے  جوانوں پر فخر کرتی ہے۔آخری دہشتگرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے  بلوچستان کے  مختلف اضلاع  میں بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشنز پر سکیورٹی فورسز کی ستائش  کی ۔ وزیرداخلہ محسن نقوی نے 17 بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر سکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہا ۔ محسن نقوی نے کہا سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائیاں کرکے بلوچستان میں بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔  17 بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کو عبرتناک انجام تک پہنچانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ پوری قوم کو سکیورٹی فورسز کے بہادر سپوتوں پر مان ہے ۔ دہشتگردی کے خلاف قوم سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

وزیراعظم محمد شہباز شریف  نے بلوچستان میں کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ۔ انہوں نے  بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بہادری کو سراہا۔ وزیراعظم نے بھارتی سرپرستی میں سرگرم 17  فتنتہ الھندوستان کے دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا  قوم اپنی بہادر افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں اور خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کی کامیابیاں پوری قوم کے عزم اور اتحاد کی عکاس ہیں، بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد عناصر کے ناپاک عزائم کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے گا۔پاکستان سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔پاکستان کے امن، استحکام اور ترقی کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے  بلوچستان میں فتنۂ الہندوستان کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ۔ صدرِ مملکت نے مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیوں میں 17 دہشت گردوں کی ہلاکت کو سراہا ۔ صدر مملکت نے کہا ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے ناسور کا جڑ سے خاتمہ کیا جانا اولین ترجیح ہے۔فتنۂ ہندوستان اور اس کے سہولت کاروں کے مذموم عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنےکی بات کی تو علیمہ خان نے ٹوک دیا
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے