پاکستان کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی سے کھڑا ہے، رانا قاسم نون
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک) چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر رانا قاسم نون نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سیاسی اور سفارتی سطح پر کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھے گا۔ ڈی چوک میں کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ بھارت کی جانب سے زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی جاری خلاف ورزیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مسئلے کا حل نکالا جائے۔
رانا قاسم نون نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ان کے حق خودارادیت کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں پر زور دیا کہ کشمیری عوام کی امنگوں کی عکاسی کرنے والی آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور منصفانہ رائے شماری کو سہولت فراہم کی جائے۔
چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر نے 5 اگست 2019 کے بعد بھارتی اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنایا، جس میں آرٹیکل 370 اور 35A کی منسوخی، فوجی موجودگی میں اضافہ، شہری آزادیوں پر پابندیاں، اور کشمیری نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم تک رسائی میں درپیش چیلنجز شامل ہیں۔ انہوں نے زیر حراست کشمیری سیاسی رہنماؤں کی رہائی اور خطے کی سابقہ آئینی حیثیت کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔