ہم ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کی بنیادوں کو مضبوط کرنیکی کوشش کر رہے ہیں، ترکیہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
اپنے ایک بیان میں رجب طیب اردگان کا کہنا تھا کہ ہم تہران اور واشنگٹن کے درمیان درجہ حرارت کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایران کیخلاف فوجی آپشن کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اسلام ٹائمز۔ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران، ترکیہ کے صدر "رجب طیب اردگان" نے موقف اپنایا کہ وہ حالیہ بحران کو قابو کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے ایران کے خلاف کسی بھی فوجی مہم جوئی کے خیال کو مسترد کیا۔ اس بارے میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی علاقائی تنازعے کا حل صرف سفارتی اقدامات میں ہی پوشیدہ ہے۔ رجب طیب اردگان نے مزید کہا کہ ہم خطے کو افراتفری اور کشیدگی سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ ہم تہران اور واشنگٹن کے درمیان درجہ حرارت کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایران کے خلاف فوجی آپشن کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ بلکہ خطہ تباہی کی جانب جائے گا۔ اسلئے اشتعال انگیزی کسی کے مفاد میں نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایران اور امریکہ دونوں ہی سفارتی راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ رجب طیب اردگان نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ نچلی سطح پر مذاکرات کے بعد، اعلیٰ ایرانی اور امریکی رہنماؤں کے درمیان راہ راست بات چیت ہو جائے۔ اسی وجہ سے ہم، دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات کی بنیادوں کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ یہ مذاکرات کس حد تک پھیلتے ہیں اور اس میں کون کون سے ممالک شریک ہوتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی کوشش کر رہے ہیں رجب طیب اردگان کے درمیان
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔