اڈیالا جیل کا سزا یافتہ قیدی انتقال کرگیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک : راولپنڈی کی اڈیالا جیل میں قید منشیات کیس کے ایک سزا یافتہ قیدی کا دورانِ علاج انتقال ہوگیا۔
جیل ذرائع کے مطابق قیدی کی طبیعت اچانک خراب ہونے پر اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہو سکا۔ اس حوالے سے جیل حکام کا کہنا ہے کہ متوفی قیدی کی شناخت بابر سلیم کے نام سے ہوئی ہے، جسے طبیعت بگڑنے پر راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (آر آئی سی) منتقل کیا گیا تھا۔ ڈاکٹروں کی جانب سے اس کی جان بچانے کی کوششیں کی گئیں تاہم وہ دورانِ علاج دم توڑ گیا۔
ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ کرنیوالے شخص کو عمر قید
ذرائع کے مطابق بابر سلیم کو کچھ عرصہ قبل منشیات کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ اڈیالا جیل میں سزا کاٹ رہا تھا۔ اس کے خلاف مقدمہ تھانہ ڈوڈیال میں درج تھا۔
جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ قیدی کی صحت اچانک زیادہ خراب ہوگئی تھی جس کے بعد اسے فوری طبی امداد فراہم کی گئی اور بعد ازاں اسپتال منتقل کیا گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق قیدی کو دل کی تکلیف کے باعث اسپتال لے جایا گیا جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔ ڈاکٹروں نے اسے بچانے کے لیے ضروری طبی اقدامات کیے مگر وہ جانبر نہ ہو سکا۔
دنیا کے 40 فیصد اینڈرائیڈ فونز نئے سائبر حملوں کے خطرے سے دوچار
جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد ضابطے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے جبکہ متوفی کے اہل خانہ کو بھی اطلاع دے دی گئی ہے۔ قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد میت ورثا کے حوالے کی جائے گی۔
بابر سلیم کا تعلق ضلع چکوال سے بتایا جاتا ہے۔ وہ کچھ عرصے سے اڈیالہ جیل میں قید تھا اور اپنے خلاف درج منشیات کیس میں سزا بھگت رہا تھا۔ جیل حکام کے مطابق قیدی کی طبیعت میں خرابی کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر طبی ٹیم کو بلایا گیا اور اسے اسپتال منتقل کرنے میں تاخیر نہیں کی گئی۔
خواتین کیلئے بلاسود کاروباری قرضوں کا بڑا اعلان
واقعے کے بعد جیل انتظامیہ نے اپنی داخلی رپورٹ مرتب کرنا شروع کر دی ہے جبکہ قیدی کی موت کی وجوہات کا تعین طبی رپورٹ کی روشنی میں کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کے مطابق کیا گیا قیدی کی کے بعد
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔