بانی پی ٹی آئی نے ہمیں اجازت نہیں دی کہ ہم قانون ہاتھ میں لیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
اسلام آباد:
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی صحت پر تشویش کا اظہار کرتےہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے ہمیں اجازت نہیں دی کہ ہم قانون ہاتھ میں لیں۔
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ آج پاکستان کے جو حالات ہیں وہ تشویش ناک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی کی صحت کے حوالے سے پوری قوم کو تشویش ہے، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو نا حق قید کیا ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی بہنوں کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے اور ظلم کی انتہا یہ ہے کہ ہر منگل کو کیمیکل والا پانی ان پر پھینکا جاتا ہے، ہم پاکستان تحریک انصاف کے ورکر ہونے کی حیثیت میں علیمہ خان اور ان کی قربانیوں کو تسلیم کرتے ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنیں ہمارے سروں کا تاج ہیں، ہم پی ٹی آئی کے ورکر ہونے کی حیثیت سے ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم اور سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کو جیل میں رکھا گیا ہے، جیل میں رکھنے کے بعد ان کے ذاتی معالج کے بغیر ان کی آنکھ کا آپریشن کیا گیا، ایسی جگہ ان کا علاج کیا جہاں ان کی فیملی اور ڈاکٹر موجود نہیں ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ میڈیکل ٹیرارزم کی گئی، جب سابق وزیراعظم کے ساتھ ایسا رویہ رکھیں گے تو احتجاج کے علاوہ ہمارے پاس کیا آپشن رہ جاتا ہے، تمام قانونی دروازے کھٹکھٹانے کے بعد بھی کوئی سنوائی نہیں ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں، بانی پی ٹی آئی نے ان پر اعتماد کر کے یہ ذمہ داریاں ان کے حوالے کی ہیں، احتجاج اور مذاکرات دونوں کا اختیار ان دونوں شخصیات کے پاس ہے، میرا فرض بنتا ہے کہ میں ان کی ہر بات کی لاج رکھوں۔
ان کا کہنا تھا کہ 8 فروری پاکستان کی تاریخ میں ایک سیاہ دن ہے، 8 فروری کے دن وہ کیا گیا جو 1971 اور 1973 میں کیا گیا تھا، بانی پی ٹی آئی نے ہمیں اجازت نہیں دی کہ ہم قانون ہاتھ میں لیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کو انتخابی نشان سے محروم کیا گیا، نشان چھیننے کے بعد ہمارے نمائندوں سے کاغذات سرعام چھینے گئے، ڈنڈے کی زور اور بندوں کی نوک پر فارم 47 بنا کر نااہلوں کو ہم پر مسلط کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی نے اجازت نہیں دی نے کہا کہ کیا گیا
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز